Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 8

  1. رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ﴿8﴾

    1. رَبَّنَااے ہمارے رب
    2. وَاَدْخِلْهُمْاور انہیں داخل کرنا
    3. جَنّٰتِ عَدْنِۨہمیشگی کے باغات
    4. الَّتِيْوہ جن کا
    5. وَعَدْتَّهُمْتو نے ان سے وعدہ کیا
    6. وَمَنْاور جو
    7. صَلَحَصالح ہیں
    8. مِنْسے
    9. اٰبَآئِهِمْان کے باپ دادا
    10. وَاَزْوَاجِهِمْاور انکی بیویوں
    11. وَذُرِّيّٰتِهِمْ ۭاور ان کی اولاد
    12. اِنَّكَبیشک تو
    13. اَنْتَ الْعَزِيْزُتو ہی غالب
    14. الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے ہمارے ربّ، اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنّتوں  میں جن کا تُو نے اُن سے وعدہ کیا ہے 10 ، اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ ہی پہنچا دے 11)۔ تُو بلاشبہ قادرِ مطلق اور حکیم ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 10 اس میں بھی وہی الحاح کی کیفیت پائی جاتی ہے جس کی طرف اوپر 8 میں ہم نے اشارہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ معاف کرنا اور دوزخ سے بچا لینا آپ سے آپ جنت میں داخل کرنے کو مستلزم ہے، اور پھر جس جنت کا اللہ نے خود مومنین سے وعدہ کیا ہے، بظاہر اسی کے لیے مومنین کے حق میں دعا کرنا غیر ضروری معلوم ہوتا ہے، لیکن اہل ایمان کے لیے فرشتوں کے دل میں جذبۂ خیر خواہی کا اتنا جوش ہے کہ وہ اپنی طرف سے ان کے حق میں کلمہ خیر کہتے ہی چلے جاتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ سب مہربانیاں ان کے ساتھ کرنے والا ہے۔ سورة الْمُؤْمِن 11 یعنی ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے ان کے ماں باپ اور بیویوں اور اولاد کو بھی ان کے ساتھ جمع کر دے۔ یہ وہی بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود بھی ان نعمتوں کے سلسلے میں بیان فرمائی ہے جو جنت میں اہل ایمان کو دی جائیں گی۔ ملاحظہ ہو سورة رعد آیت 23۔ اور سورة طور آیت 21۔ سورة طور والی آیت میں یہ تصریح بھی ہے کہ اگر ایک شخص جنت میں بلند درجے کا مستحق ہو اور اس کے والدین اور بال بچے اس مرتبے کے مستحق نہ ہوں تو اس کو نیچے لا کر ان کے ساتھ ملانے کے بجائے اللہ تعالیٰ ان کو اٹھا کر اس کے درجے میں لے جائے گا۔