Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 9

  1. وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ع﴿9﴾

    1. وَقِهِمُاور انہیں بچالے
    2. السَّيِّاٰتِ ۭبُرائیاں
    3. وَمَنْورجو
    4. اتَقِبچا
    5. السَّيِّاٰتِبُرائیاں
    6. يَوْمَئِذٍاس دن
    7. فَقَدْ رَحِمْتَهٗ ۭتو تونے اس پر رحم کیا
    8. وَذٰلِكَاور یہ
    9. هُوَوہ (یہی)
    10. الْفَوْزُکامیابی
    11. الْعَظِيْمُبڑی
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور بچا دے اُن کو برائیوں سے 12۔ جس کو تُو نے قیامت کے دن بُرائیوں سے 13 بچا دیا اُس پر تُو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 12 " سیّئات " (برائیوں) کا لفظ تین مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور تینوں ہی یہاں مراد ہیں۔ ایک، غلط عقائد اور بگڑے ہوئے اخلاق اور برے اعمال۔ دوسرے، گمراہی اور اعمال بد کا وبال۔ تیسرے آفات اور مصائب اور اذیتیں خواہ وہ اس دنیا کی ہوں، یا عالم برزخ کی، یا روز قیامت کی۔ فرشتوں کی دعا کا مقصود یہ ہے کہ ان کو ہر اس چیز سے بچا جو ان کے حق میں بری ہو۔ سورة الْمُؤْمِن 13 روز قیامت کی برائیوں سے مراد میدان حشر کا ہول، سائے اور ہر قسم کی آسائشوں سے محرومی، محاسبے کی سختی، تمام خلائق کے سامنے زندگی کے راز فاش ہونے کی رسوائی، اور دوسرے وہ تمام ذلتیں اور سختیاں ہیں جن سے وہاں مجرمین کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔