تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 83
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿83﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- جَآءَتْهُمْان کے پاس آئے
- رُسُلُهُمْان کے رسول
- بِالْبَيِّنٰتِکھلی نشانیوں کیساتھ
- فَرِحُوْاخوش ہوئے (اترانے لگے)
- بِمَااس پر جو
- عِنْدَهُمْان کے پاس
- مِّنَ الْعِلْمِعلم سے
- وَحَاقَ بِهِمْاور گھیر لیا انہیں
- مَّا كَانُوْاجو وہ کرتے تھے
- بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَاس کا مذاق اڑاتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب ان کے رسُول ان کے پاس بیّنات لے کر آئے تو وہ اُسی علم میں مگن رہے جو ان کے اپنے پاس تھا، 112اور پھر اُسی چیز کے پھیر میں آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 112
یعنی اپنے فلسفے اور سائنس، اپنے قانون، اپنے دنیوی علوم، اور اپنے پیشواؤں کے گھڑے ہوئے مذہبی افسانوں (Mythology) اور دینیات (Theology) ہی کو انہوں نے اصل علم سمجھا اور انبیاء (علیہم السلام) کے لائے ہوئے علم کو ہیچ سمجھ کر اس کی طرف کوئی التفات نہ کیا۔