تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 85
فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ع﴿85﴾
- فَلَمْ يَكُتو نہ ہوا
- يَنْفَعُهُمْان کو نفع دیتا
- اِيْمَانُهُمْان کا ایمان
- لَمَّاجب
- رَاَوْاانہوں نے دیکھ لیا
- بَاْسَنَا ۭہمارا عذاب
- سُنَّتَ اللّٰهِاللہ کا دستور
- الَّتِيْ قَدْ خَلَتْوہ جو گزرچکا ہے
- فِيْ عِبَادِهٖ ۚاس کے بندوں میں
- وَخَسِرَاور گھاٹے میں رہے
- هُنَالِكَاس وقت
- الْكٰفِرُوْنَکافر (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان اُن کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو سکتا تھا، کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے،113 اورا س وقت کافر خسارے میں پڑ گئے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 113
یہ کہ توبہ اور ایمان بس اسی وقت تک نافع ہیں جب تک آدمی اللہ کے عذاب یا موت کی گرفت میں نہ آجائے۔ عذاب آجانے یا موت کے آثار شروع ہوجانے کے بعد ایمان لانا یا توبہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہے۔