Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 14

  1. اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ﴿14﴾

    1. اِذْجب
    2. جَآءَتْهُمُآئے ان کے پاس
    3. الرُّسُلُرسول
    4. مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْان کے آگے سے
    5. وَمِنْ خَلْفِهِمْاور ان کے پیچھے سے
    6. اَلَّا تَعْبُدُوْٓاکہ تم نہ عبادت کرو
    7. اِلَّا اللّٰهَ ۭسوائے اللہ
    8. قَالُوْاانہوں نے جواب دیا
    9. لَوْ شَآءَاگر چاہتا
    10. رَبُّنَاہمارا رب
    11. لَاَنْزَلَتو ضرور اتارتا
    12. مَلٰٓئِكَةًفرشتے
    13. فَاِنَّاپس ہم
    14. بِمَآاس کا جو
    15. اُرْسِلْتُمْتم بھیجے گئے ہو
    16. بِهٖ كٰفِرُوْنَاسکے ساتھ منکر ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب خدا کے رسُول اُن کے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے 18 اور انہیں سمجھایا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا”ہمارا ربّ چاہتا تو فرشتے بھیجتا، لہٰذا ہم اُس بات کو نہیں مانتے جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو۔“ 19
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 18 اس فقرے کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے پاس رسول آتے رہے۔ دوسرے یہ کہ رسولوں نے ہر پہلو سے انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور ان کو راہ راست پر لانے کے لیے کوئی تدبیر اختیار کرنے میں کسر نہ اٹھا رکھی۔ تیسرے یہ کہ ان کے پاس ان کے اپنے ملک میں بھی رسول آئے اور گرد و پیش کے ملکوں بھی آتے رہے۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 19 یعنی اگر اللہ کو ہمارا یہ مذہب پسند نہ ہوتا اور وہ اس سے باز رکھنے کے لیے ہمارے پاس کوئی رسول بھیجنا چاہتا تو فرشتوں کو بھیجتا۔ تم چونکہ فرشتے نہیں ہو بلکہ ہم جیسے انسان ہی ہو اس لیے ہم یہ نہیں مانتے کہ تم کو خدا نے بھیجا ہے اور اس غرض کے لیے بھیجا ہے کہ ہم اپنا مذہب چھوڑ کر وہ دین اختیار کرلیں جسے تم پیش کر رہے ہو۔ کفار کا یہ کہنا کہ جس چیز کے لیے تم " بھیجے گئے ہو " اسے ہم نہیں مانتے، محض طنز کے طور پر تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ انکو خدا کا بھیجا ہوا مانتے تھے اور پھر ان کی بات ماننے سے انکار کرتے تھے۔ بلکہ یہ اسی طرح کا طنزیہ انداز بیان ہے جیسے فرعون نے حضرت موسیٰ کے متعلق اپنے درباریوں سے کہا تھا کہ اِنَّ رَسُوْلَکُمْ الَّذِیْٓ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْن (الشعراء آیت 27)۔ " یہ رسول صاحب جو تمہارے پاس بھیجے گئے ہیں بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں۔ " (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، سورة یٰس 11)