تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 16
فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ﴿16﴾
- فَاَرْسَلْنَاپس ہم نے بھیجی
- عَلَيْهِمْان پر
- رِيْحًاہوا
- صَرْصَرًاتند وتیز
- فِيْٓ اَيَّامٍدنوں میں
- نَّحِسَاتٍنحوست
- لِّنُذِيْقَهُمْتاکہ ہم چکھائیں
- عَذَابَعذاب
- الْخِزْيِرسوائی
- فِيمیں
- الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭدنیا کی زندگی
- وَلَعَذَابُاور البتہ عذاب
- الْاٰخِرَةِآخرت
- اَخْزٰىزیادہ رسوا کرنیوالا
- وَهُمْاور وہ
- لَا يُنْصَرُوْنَمدد نہ کئے جائیں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
آخر کار ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ 20 تاکہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلّت و رسوائی کے عذاب کا مزا چکھا دیں، 21 اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رُسوا کُن ہے ، وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہو گا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 20
" منحوس دنوں " کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دن بجائے خود منحوس تھے اور عذاب اس لیے آیا کہ یہ منحوس دن قوم عاد پر آگئے تھے۔ یہ مطلب اگر ہوتا اور بجائے خود ان دنوں ہی میں کوئی نحوست ہوتی تو عذاب دور و نزدیک کی ساری ہی قوموں پر آجاتا۔ اس لیے صحیح مطلب یہ ہے کہ ان ایام میں چونکہ اس قوم پر خدا کا عذاب نازل ہوا اس بنا پر وہ دن قوم عاد کے لیے منحوس تھے۔ اس آیت سے دنوں کے سعد و نحس پر استدلال کرنا درست نہیں ہے۔
طوفانی ہوا کے لیے " ریح صرصر " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کے معنی میں اہل لغت کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سخت لو ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سخت ٹھنڈی ہوا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد ایسی ہوا ہے جس کے چلنے سے سخت شور برپا ہوتا ہو۔ بہرحال اس معنی پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ لفظ بہت تیز طوفانی ہوا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ہوا مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک چلتی رہی۔ اس کے زور سے لوگ اس طرح گر گر کر مر گئے اور مر مر کر گر پڑے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے گرے پڑے ہوں (الحاقہ آیت 7) جس چیز پر سے بھی یہ ہوا گزر گئی، اس کو بوسیدہ کر کے رکھ دیا (الزاریات، 42) جس وقت یہ ہوا آ رہی تھی اس وقت عاد کے لوگ خوشیاں منا رہے تھے کہ خوب گھٹا گھر کر آئی ہے، بارش ہوگی اور سوکھے دھانوں میں پانی پڑجائے گا۔ مگر وہ آئی تو اس طرح آئی کہ اس نے ان کے پورے علاقے کو تباہ کر کے رکھ دیا (الا حقاف، 24۔ 25)
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 21
یہ ذلت و رسوائی کا عذاب ان کے کبر و غرور کا جواب تھا جس کی بنا پر وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے تھے اور خم ٹھونک ٹھونک کر کہتے تھے کہ ہم سے زیادہ زور آور کون ہے۔ اللہ نے ان کو اس طرح ذلیل کیا کہ ان کی آبادی کے بڑے حصے کو ہلاک کردیا، ان کے تمدن کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا، اور ان کا قلیل حصہ جو باقی رہ گیا وہ دنیا کی انہی قوموں کے آگے ذلیل و خوار ہوا جن پر کبھی یہ لوگ اپنا زور جتاتے تھے۔ (عاد کے قصے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 51 تا 53، ہود، حواشی 54 تا 66، جلد سوم، المومنون، حواشی 34 تا 37، الشعراء، حواشی 88 تا 94، العنکبوت، حاشیہ 65)