Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 19

  1. وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ﴿19﴾

    1. وَيَوْمَاور جس دن
    2. يُحْشَرُجمع کئے جائیں گے
    3. اَعْدَآءُ اللّٰهِاللہ کے دشمن
    4. اِلَىطرف
    5. النَّارِجہنم
    6. فَهُمْتو وہ
    7. يُوْزَعُوْنَگروہ گروہ کئے جائیں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ 23 اُن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا، 24
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 23 اصل مدعا یہ کہنا ہے کہ جب وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ لیکن اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔ کیونکہ ان کا انجام آخر کار دوزخ ہی میں جانا ہے۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 24 یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ ایک ایک نسل اور ایک ایک پشت کا حساب کر کے اس کا فیصلہ یکے بعد دیگرے کیا جاتا رہے، بلکہ تمام اگلی پچھلی نسلیں بیک وقت جمع کی جائیں گی اور ان سب کا اکٹھا حساب کیا جائے گا۔ اس لیے کہ ایک شخص اپنی زندگی میں جو کچھ بھی اچھے اور برے اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہوجاتے بلکہ اس کے مرنے کے بعد بھی مدت ہائے دراز تک چلتے رہتے ہیں اور وہ ان اثرات کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک نسل اپنے دور میں جو کچھ بھی کرتی ہے اس کے اثرات بعد کی نسلوں میں صدیوں جاری رہتے ہیں اور اپنے اس ورثے کے لیے وہ ذمہ دار ہوتی ہے۔ محاسبے اور انصاف کے لیے ان سارے ہی آثار و نتائج کا جائزہ لینا اور ان کی شہادتیں فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اسی وجہ سے قیامت کے روز نسل پر نسل آتی جائے گی اور ٹھہرائی جاتی رہے گی۔ عدالت کا کام اس وقت شروع ہوگا جب اگلے پچھلے سب جمع ہوجائیں گے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 3)