Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 35

  1. وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ﴿35﴾

    1. وَمَا يُلَقّٰىهَآاور نہیں ملتی یہ
    2. اِلَّامگر
    3. الَّذِيْنَوہ جنہوں نے
    4. صَبَرُوْا ۚصبر کیا
    5. وَمَا يُلَقّٰىهَآاور نہیں ملتی یہ
    6. اِلَّامگر
    7. ذُوْ حَظٍّنصیب والے
    8. عَظِيْمٍبڑے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، 38 اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔ 39
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 38 یعنی یہ نسخہ ہے تو بڑا کارگر، مگر اسے استعمال کرنا کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے۔ اس کے لیے بڑا دل گردہ چاہیے۔ اس کے لیے بڑا عزم، بڑا حوصلہ، بڑی قوت برداشت، اور اپنے نفس پر بہت بڑا قابو درکار ہے۔ وقتی طور پر ایک آدمی کسی بدی کے مقابلے میں بڑی نیکی برت سکتا ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن جہاں کسی شخص کو سالہا سال تک ان باطل پرست اشرار کے مقابلے میں حق کی خاطر لڑنا پڑے جو اخلاق کی کسی حد کو پھاند جانے میں تامل نہ کرتے ہوں، اور پھر طاقت اور اختیارات کے نشے میں بھی بد مست ہو رہے ہوں، اور وہاں بدی کا مقابلہ نیکی اور وہ بھی اعلیٰ درجے کی نیکی سے کرتے چلے جانا، اور کبھی ایک مرتبہ بھی ضبط کی باگیں ہاتھ سے نہ چھوڑنا کسی معمولی آدمی کے بس کا کام نہیں ہے۔ یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے جو ٹھنڈے دل سے حق کی سربلندی کے لیے کام کرنے کا پختہ عزم کرچکا ہو، جس نے پوری طرح سے اپنے نفس کو عقل و شعور کے تابع کرلیا ہو، اور جس کے اندر نیکی و راستی ایسی گہری جڑیں پکڑ چکی ہو کہ مخالفین کی کوئی شرارت و خباثت بھی اسے اس کے مقام بلند سے نیچے اتار لانے میں کامیاب نہ ہو سکتی ہو۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 39 یہ قانون فطرت ہے۔ بڑے ہی بلند مرتبے کا انسان ان صفات سے متصف ہوا کرتا ہے، اور جو شخص یہ صفات رکھتا ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت بھی کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ گھٹیا درجے کے لوگ اپنی کمینہ چالوں، ذلیل ہتھکنڈوں اور رکیک حرکتوں سے اس کو شکست دے دیں۔