Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 37

  1. وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ﴿37﴾

    1. وَمِنْ اٰيٰتِهِاور اس کی نشانیوں میں سے ہے
    2. الَّيْلُرات
    3. وَالنَّهَارُاور دن
    4. وَالشَّمْسُاور سورج
    5. وَالْقَمَرُ ۭاور چاند
    6. لَا تَسْجُدُوْااور نہ سجدہ کرو
    7. لِلشَّمْسِسورج کو
    8. وَلَا لِلْقَمَرِاور نہ چاند کو
    9. وَاسْجُدُوْااور تم سجدہ کرو
    10. لِلّٰهِاللہ کو
    11. الَّذِيْوہ جس نے
    12. خَلَقَهُنَّپیدا کیا انہیں
    13. اِنْ كُنْتُمْاگر تم ہو
    14. اِيَّاهُاس کی
    15. تَعْبُدُوْنَعبادت کرتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
42 اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سُورج اور چاند۔ 43 سُورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اُس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اُسی کی عبادت کرنے والے ہو۔ 44
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 42 اب روئے سخن عوام الناس کی طرف مڑ رہا ہے اور چند فقرے ان کو حقیقت سمجھانے کے لیے ارشاد ہورے ہیں۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 43 یعنی یہ اللہ کے مظاہر نہیں ہیں کہ تم یہ سمجھتے ہوئے ان کی عبادت کرنے لگو کہ اللہ ان کی شکل میں خود اپنے آپ کو ظاہر کر رہا ہے، بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جن پر غور کرنے سے تم کائنات کی اور اس کے نظام کی حقیقت سمجھ سکتے ہو اور یہ جان سکتے ہو کہ انبیاء (علیہم السلام) جس توحید خداوندی کی تعلیم دے رہے ہیں وہی امر واقعی ہے۔ سورج اور چاند سے پہلے رات اور دن کا ذکر اس امر پر متنبہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ رات کو سورج کا چھپنا اور چاند کا نکل آنا، اور دن کو چاند کا چھپنا اور سورج کا نمودار ہوجانا صاف طور پر یہ دلالت کر رہا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی خدا یا خدا کا مظہر نہیں ہے، بلکہ دونوں ہی مجبور و لاچار بندے ہیں جو خدا کے قانون میں بندھے ہوئے گردش کر رہے ہیں۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 44 یہ جواب ہے اس فلسفے کا جو شرک کو معقول ثابت کرنے کے لیے کچھ زیادہ ذہین قسم کے مشرکین عموماً بگھارا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ان چیزوں کو سجدہ نہیں کرتے بلکہ ان کے واسطے سے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ ہی کے عبادت گزار ہو تو ان واسطوں کی کیا ضرورت ہے، براہ راست خود اسی کو سجدہ کیوں نہیں کرتے۔