تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 38
فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩۩﴿38﴾
- فَاِنِپس اگر وہ
- اسْتَكْبَرُوْاتکبر کریں
- فَالَّذِيْنَسو وہ جو
- عِنْدَ رَبِّكَآپ کے رب کے نزدیک
- يُسَبِّحُوْنَوہ تسبیح کرتے ہیں
- لَهٗ بالَّيْلِاس کی رات
- وَالنَّهَارِاور دن
- وَهُمْاور وہ
- لَا يَسْئَمُوْنَنہیں اکتاتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آکر اپنی ہی بات پر اَڑے رہیں 45 تو پروا نہیں، جو فرشتے تیرے ربّ کے مقرب ہیں وہ شب و روز اس کی تسبیح کر رہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے۔ 46
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 45
" غرور میں آ کر " سے مراد یہ ہے کہ اگر یہ تمہاری بات مان لینے میں اپنی ذلت سمجھ کر اسی جہالت پر اصرار کیے چلے جائیں جس میں یہ مبتلا ہیں۔
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 46
مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات کا نظام، جو ان فرشتوں کے ذریعہ سے چل رہا ہے، اللہ کی توحید اور اسی کی بندگی میں رواں دواں ہے، اس نظام کے منتظم فرشتے ہر آن یہ شہادت دے رہے ہیں کہ ان کا رب اس سے پاک اور منزہ ہے کہ کوئی خداوندی اور معبودیت میں اس کا شریک ہو۔ اب اگر چند احمق سمجھانے پر نہیں مانتے اور ساری کائنات جس راستے پر چل رہی ہے اس سے منہ موڑ کر شرک ہی کی راہ پر چلنے پر اصرار کیے جاتے ہیں تو پڑا رہنے دو ان کو اپنی اس حماقت میں۔
اس مقام کے متعلق یہ امر تو متفق علیہ ہے کہ یہاں سجدہ لازم آتا ہے، مگر اس امر میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہوگیا ہے کہ اوپر کی دونوں آیتوں میں سے کس پر سجدہ کرنا چاہیے۔ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ پر سجدہ کرتے تھے۔ اسی قول کو امام مالک نے اختیار کیا ہے، اور ایک قول امام شافعی سے بھی اسی کی تائید میں منقول ہے۔ لیکن حضرات ابن عباس، ابن عمر، سعید بن المسیّب، مسرق، قتادہ، حسن بصری، ابو عبدالرحمٰن السُّلَمِی، ابن سیرین، ابراہیم نَخَعی اور متعدد دوسرے اکابر وَھُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ پر سجدے کے قائل ہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ کا قول بھی ہے اور شافعیوں کے ہاں بھی مرجَّح قول یہی ہے۔