Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 45

  1. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ﴿45﴾

    1. وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور تحقیق ہم نے دی
    2. مُوْسَىموسیٰ
    3. الْكِتٰبَکتاب
    4. فَاخْتُلِفَتو اختلاف کیا
    5. فِيْهِ ۭاس میں
    6. وَلَوْلَااور اگر نہ ہوتی
    7. كَلِمَةٌایک بات
    8. سَبَقَتْپہلے ٹھہر چکی
    9. مِنْسے
    10. رَّبِّكَآپ کا رب
    11. لَقُضِيَتو فیصلہ ہوچکا ہوتا
    12. بَيْنَهُمْ ۭان کے درمیان
    13. وَاِنَّهُمْاور بیشک وہ
    14. لَفِيْ شَكٍّضرور شک میں
    15. مِّنْهُاس سے
    16. مُرِيْبٍتردد میں ڈالنے والے شک میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اس سے پہلے ہم نے موسیٰؑ کو کتا ب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا۔56 اگر تیرے ربّ نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کردی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چُکا دیا جاتا۔57 اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔58
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 56 یعنی کچھ لوگوں نے اسے مانا تھا اور کچھ مخالفت پر تل گئے تھے۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 57 اس ارشاد کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ طے نہ کردیا ہو تاکہ لوگوں کو سوچنے سمجھنے کے لیے کافی مہلت دی جائے گی تو اس طرح کی مخالفت کرنے والوں کا خاتمہ کردیا جاتا۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ نے پہلے ہی یہ طے نہ کرلیا ہوتا کہ اختلافات کا آخری فیصلہ قیامت کے روز کیا جائے گا تو دنیا ہی میں حقیقت کو بےنقاب کردیا جاتا اور یہ بات کھول دی جاتی کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 58 اس مختصر سے فقرے میں کفار مکہ کے مرض کی پوری تشخیص کردی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ وہ قرآن اور محمد ﷺ کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور اس شک نے ان کو سخت خلجان و اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو وہ بڑے زور شور سے قرآن کے کلام الہٰی ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے کا انکار کرتے ہیں، لیکن درحقیقت ان کا یہ انکار کسی یقین کی بنیاد پر نہیں ہے، بلکہ ان کے دلوں میں شدید تذبذب برپا ہے۔ ایک طرف ان کے ذاتی مفاد، ان کے نفس کی خواہشات، اور ان کے جاہلانہ تعصبات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ قرآن اور محمد ﷺ کو جھٹلائیں اور پوری طاقت کے ساتھ ان کی مخالفت کریں۔ دوسری طرف ان کے دل اندر سے پکارتے ہیں کہ یہ قرآن فی الواقع ایک بےمثل کلام ہے جس کے مانند کوئی کلام کسی ادیب یا شاعر سے کبھی نہیں سنا گیا ہے، نہ کوئی مجنون دیوانگی کے عالم میں ایسی باتیں کرسکتا ہے، نہ کبھی شیاطین اس غرض کے لیے آسکتے ہیں کہ لوگوں کو خدا پرستی اور نیکی و پاکیزگی کی تعلیم دیں۔ اسی طرح محمد ﷺ کو جب وہ جھوٹا کہتے ہیں تو ان کا دل اندر سے کہتا ہے کہ خدا کے بندو کچھ شرم کرو، کیا یہ شخص جھوٹا ہوسکتا ہے ؟ جب وہ ان پر الزام رکھتے ہیں کہ محمد ﷺ یہ سب کچھ حق کی خاطر نہیں بلکہ اپنی بڑائی کے لیے کر رہے ہیں تو ان کا دل اندر سے ملامت کرتا ہے کہ لعنت ہے تم پر، اس نیک نفس انسان کو بندہ غرض کہتے ہو جسے کبھی تم نے دولت اور اقتدار اور نام و نمود کے لیے دوڑ دھوپ کرتے نہیں دیکھا ہے، جس کی ساری زندگی مفاد پرستی کے ہر شائبے سے پاک رہی ہے، جس نے ہمیشہ نیکی اور بھلائی کے لیے کام کیا ہے، مگر کبھی اپنی کسی نفسانی غرض کے لیے کوئی بےجا کام نہیں کیا۔