تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 49
لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ﴿49﴾
- لَا يَسْئَمُنہیں تھکتا
- الْاِنْسَانُانسان
- مِنْ دُعَآءِ الْخَيْرِ ۡبھلائی مانگنے سے
- وَاِنْاور اگر
- مَّسَّهُاسے لگ جائے
- الشَّرُّبُرائی
- فَيَئُوْسٌتو مایوس ہوجاتا ہے
- قَنُوْطٌناامید
Translation · Tafheem-ul-Quran
انسان کبھی بھلائی کی دُعا مانگتے نہیں تھکتا، 65 اور جب کوئی آفت اس پر آجاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 65
بھلائی سے مراد ہے خوشحالی، کشادہ رزق، تندرستی، بال بچوں کی خیر وغیرہ۔ اور انسان سے مراد یہاں نوع انسانی کا ہر فرد نہیں ہے، کیونکہ اس میں تو انبیاء اور صلحاء بھی آجاتے ہیں جو اس صفت سے مبرا ہیں جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ بلکہ اس مقام پر وہ چھچورا اور کم ظرف انسان مراد ہے جو برا وقت آنے پر گڑ گڑانے لگتا ہے اور دنیا کا عیش پاتے ہی آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ چونکہ نوع انسانی کی اکثریت اسی کمزوری میں مبتلا ہے اس لیے اسے انسان کی کمزوری قرار دیا گیا ہے۔