Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 5

  1. وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ﴿5﴾

    1. وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
    2. قُلُوْبُنَاہمارے دل
    3. فِيْٓ اَكِنَّةٍپردوں میں
    4. مِّمَّااس سے جو
    5. تَدْعُوْنَآتم بلاتے ہو ہمیں
    6. اِلَيْهِاس کی طرف
    7. وَفِيْٓ اٰذَانِنَااور ہمارے کانوں میں
    8. وَقْرٌبوجھ، گرانی
    9. وَّمِنْۢ بَيْنِنَااور ہمارے درمیان
    10. وَبَيْنِكَاور تمہارے درمیان
    11. حِجَابٌایک پردہ
    12. فَاعْمَلْسو تم کام کرو
    13. اِنَّنَابیشک ہم
    14. عٰمِلُوْنَکام کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہتے ہیں”جس چیز کی طرف تُو ہمیں بُلا رہا ہے اس کے لیے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں، 2 ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہو گیا ہے۔ 3 تُو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کیے جائیں گے۔“ 4
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 2 یعنی اس کے لیے ہمارے دلوں تک پہنچنے کا کوئی راستہ کھلا ہوا نہیں ہے۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 3 یعنی اس دعوت نے ہمارے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دی ہے۔ اس نے ہمیں اور تمہیں ایک دوسرے سے کاٹ دیا ہے۔ یہ ایک ایسی رکاوٹ بن گئی ہے جو ہم کو اور تم کو جمع نہیں ہونے دیتی۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 4 اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ہم کو تم سے کوئی سروکار نہیں۔ دوسرے یہ کہ تم اپنی دعوت سے باز نہیں آتے تو اپنا کام کیے جاؤ، ہم بھی تمہاری مخالفت سے باز نہ آئیں گے اور جو کچھ تمہیں نیچا دکھانے کے لیے ہم سے ہو سکے گا کریں گے۔