Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 6

  1. قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ﴿6﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. اِنَّمَآاس کے سوا نہیں
    3. اَنَا بَشَرٌکہ میں ایک بشر
    4. مِّثْلُكُمْتم جیسا
    5. يُوْحٰٓىوحی کی جاتی ہے
    6. اِلَيَّمیری طرف
    7. اَنَّمَآیہ کہ
    8. اِلٰهُكُمْتمہارا معبود
    9. اِلٰهٌ وَّاحِدٌمعبود یکتا
    10. فَاسْتَقِيْمُوْٓاپس سیدھے رہو
    11. اِلَيْهِاس کی طرف (اس کے حضور)
    12. وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۭاور اس سے مغفرت مانگو
    13. وَوَيْلٌاور خرابی
    14. لِّلْمُشْرِكِيْنَمشرکوں کے لئے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبی ؐ، اِن سے کہو، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا۔ 5 مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے 6 ، لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رُخ اختیار کرو 7 اور اس سے معافی چاہو۔ 8 تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 5 یعنی میرے بس میں یہ نہیں ہے کہ تمہارے دلوں پر چڑھے ہوئے غلاف اتار دوں، تمہارے بہرے کان کھول دوں، اور اس حجاب کو پھاڑ دوں جو تم نے خود ہی میرے اور اپنے درمیان ڈال لیا ہے۔ میں تو ایک انسان ہوں۔ اسی کو سمجھا سکتا ہوں جو ملنے کے لیے تیار ہو۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 6 یعنی تم چاہے اپنے دلوں پر غلاف چڑھا لو اور اپنے کان بہرے کرلو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمہارے بہت سے خدا نہیں ہیں بلکہ صرف ایک ہی خدا ہے جس کے تم بندے ہو۔ اور یہ کوئی فلسفہ نہیں ہے جو میں نے اپنے غور و فکر سے بنایا ہو، جس کے صحیح اور غلط ہونے کا یکساں احتمال ہو، بلکہ یہ حقیقت مجھ پر وحی کے ذریعہ سے منکشف کی گئی ہے جس میں غلطی کے احتمال کا شائبہ تک نہیں ہے۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 7 یعنی کسی اور کو خدا نہ بناؤ، کسی اور کی بندگی و پرستش نہ کرو، کسی اور کو مدد کے لیے نہ پکارو، کسی اور کے آگے سر تسلیم و اطاعت خم نہ کرو، کسی اور کے رسم و رواج اور قانون و ضابطہ کو شریعت واجب الاطاعت نہ مانو۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة 8 معافی اس بےوفائی کی جو اب تک تم اپنے خدا سے کرتے رہے، اس شرک اور کفر اور نافرمانی کی جس کا ارتکاب تم سے اب تک ہوتا رہا، اور ان گناہوں کی جو خدا فراموشی کے باعث تم سے سرزد ہوئے۔