Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 52

  1. قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ﴿52﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. اَرَءَيْتُمْکیا تم نے دیکھا
    3. اِنْ كَانَاگر ہو
    4. مِنْسے
    5. عِنْدِ اللّٰهِاللہ کے پاس
    6. ثُمَّ كَفَرْتُمْپھر تم نے کفر کیا
    7. بِهٖاس سے
    8. مَنْ اَضَلُّکون بڑا گمراہ
    9. مِمَّنْاس سے جو
    10. هُوَوہ
    11. فِيْ شِقَاقٍۢضد میں
    12. بَعِيْدٍدور دراز
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبیؐ ، اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہُوا اور تم اِس کا انکار کرتے رہے تو اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اِس کی مخالفت میں دُور تک نکل گیا ہو؟ 69
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 69 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ محض اس خطرے کی بنا پر ایمان لے آؤ کہ اگر کہیں یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا تو انکار کر کے ہماری شامت نہ آجائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح سرسری طور پر بےسوچے سمجھے تم انکار کر رہے ہو، اور بات کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہو، اور خواہ مخواہ کی ضد میں آ کر مخالفت پر تل گئے ہو، یہ کوئی دانشمندی کی بات نہیں ہے۔ تم یہ دعویٰ تو نہیں کرسکتے کہ تمہیں اس قرآن کے خدا کی طرف سے نہ ہونے کا علم ہوگیا ہے اور تم یقین کے ساتھ یہ جان چکے ہو کہ خدا نے اسے نہیں بھیجا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسے کلام الہٰی ماننے سے تمہارا انکار علم کی بنا پر نہیں بلکہ گمان کی بنا پر ہے۔ جس کا صحیح ہونا اگر بادی النظر میں ممکن ہے تو غلط ہونا بھی ممکن ہے۔ اب ذرا ان دونوں قسم کے امکانات کا جائزہ لے کر دیکھ لو۔ تمہارا گمان فرض کرو کہ صحیح نکلا تو تمہارے اپنے خیال کے مطابق زیادہ بس یہی ہوگا کہ ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں یکساں رہیں گے، کیونکہ دونوں ہی کو مر کر مٹی میں مل جانا ہے، اور آگے کوئی زندگی نہیں ہے جس میں کفر و ایمان کے کچھ نتائج نکلنے والے ہوں۔ لیکن اگر فی الواقع یہ قرآن خدا ہی کی طرف سے ہوا اور وہ سب کچھ پیش آ گیا جس کی یہ خبر دے رہا ہے، پھر بتاؤ کہ اس کا انکار کر کے اور اس کی مخالفت میں اتنی دور جا کر تم کس انجام سے دوچار ہو گے۔ اس لیے تمہارا اپنا مفاد یہ تقاضا کرتا ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر سنجیدگی کے ساتھ اس قرآن پر غور کرو۔ اور غور کرنے کے بعد بھی تم ایمان نہ لانے ہی کا فیصلہ کرتے ہو تو نہ لاؤ، مگر مخالفت پر کمر بستہ ہو کر اس حد تک آگے تو نہ بڑھ جاؤ کہ جھوٹ اور مکر وتلبیس اور ظلم و ستم کے ہتھیار اس دعوت کا راستہ روکنے کے لیے استعمال کرنے لگو، اور خود ایمان نہ لانے پر اکتفا نہ کر کے دوسروں کو بھی ایمان لانے سے روکتے پھرو۔