Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 25

  1. وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ﴿25﴾

    1. وَهُوَ الَّذِيْاور وہ اللہ وہ ذات ہے
    2. يَقْبَلُجو قبول کرتا ہے
    3. التَّوْبَةَتوبہ کو
    4. عَنْ عِبَادِهٖاپنے بندوں سے
    5. وَيَعْفُوْااور درگزر کرتا ہے
    6. عَنِ السَّيِّاٰتِبرائیوں سے
    7. وَيَعْلَمُ مَااور وہ جانتا ہے جو
    8. تَفْعَلُوْنَتم کرتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور بُرائیوں سے درگزر کرتا ہے، حالانکہ تم لوگوں کے سب افعال کا اُسے علم ہے۔ 47
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشُّوْرٰی 47 پچھلی آیت کے معاً بعد توبہ کی ترغیب دینے سے خود بخود یہ مضمون نکلتا ہے کہ ظالمو، سچے نبی پر یہ جھوٹے الزامات رکھ کر کیوں اپنے آپ کو اور زیادہ خدا کے عذاب کا مستحق بناتے ہو، اب بھی اپنی ان حرکتوں سے باز آجاؤ اور توبہ کرلو تو اللہ معاف فرما دے گا۔ توبہ کے ایک معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنے کیے پر نادم ہو، جس برائی کا وہ مرتکب ہوا ہے یا ہوتا رہا ہے اس سے باز آجائے، اور آئندہ اس کا ارتکاب نہ کرے۔ نیز یہ بھی سچی توبہ کا لازمی تقاضا ہے کہ جو برائی کسی شخص نے پہلے کی ہے اس کی تلافی کرنے کی وہ اپنی حد تک پوری کوشش کرے، اور جہاں تلافی کی کوئی صورت ممکن نہ ہو، وہاں اللہ سے معافی مانگے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کر کے اس دھبے کو دھوتا رہے جو اس نے اپنے دامن پر لگا لیا ہے۔ لیکن کوئی توبہ اس وقت تک حقیقی توبہ نہیں ہے جب تک کہ وہ اللہ کو راضی کرنے کی نیت سے نہ ہو۔ کسی دوسری وجہ یا غرض سے کسی برے فعل کو چھوڑ دینا سرے سے توبہ کی تعریف ہی میں نہیں آتا۔