تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 29
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ع﴿29﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهٖاور اس کی نشانیوں میں سے ہے
- خَلْقُ السَّمٰوٰتِپیدائش آسمانوں کی
- وَالْاَرْضِاور زمین کی
- وَمَااور جو بھی
- بَثَّ فِيْهِمَااس نے پھیلا دیے ان دونوں میں
- مِنْ دَآبَّةٍجانوروں میں سے
- ۭ وَهُوَاور وہ
- عَلٰيپر
- جَمْعِهِمْان کے جمع کرنے (پر)
- اِذَا يَشَآءُجب بھی وہ چاہے ۔ چاہتا ہے
- قَدِيْرٌقدرت رکھنے والا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس کی نشانیوں میں سے ہے یہ زمین اور آسمانوں کی پیدائش ، اور یہ جاندار مخلوقات جو اُس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں۔ 50 وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کر سکتا ہے۔ 51
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشُّوْرٰی 50
یعنی زمین میں بھی اور آسمانوں میں بھی۔ یہ کھلا اشارہ ہے اس طرف کہ زندگی صرف زمین پر ہی نہیں پائی جاتی، بلکہ دوسرے سیاروں میں بھی جاندار مخلوقات موجود ہیں۔
سورة الشُّوْرٰی 51
یعنی جس طرح وہ انہیں پھیلا دینے پر قادر ہے اسی طرح وہ انہیں جمع کرلینے پر بھی قادر ہے، لہٰذا یہ خیال کرنا غلط ہے کہ قیامت نہیں آسکتی اور تمام اولین و آخرین کو بیک وقت اٹھا کر اکٹھا نہیں کیا جاسکتا۔