تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 15
وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ع﴿15﴾
- وَجَعَلُوْااور انہوں نے بنادیا
- لَهٗاس کے لیے
- مِنْ عِبَادِهٖاس کے بندوں میں سے
- جُزْءًاایک جزو۔ حصہ
- ۭاِنَّ الْاِنْسَانَبیشک انسان
- لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌالبتہ ناشکرا ہے کھلم کھلا
Translation · Tafheem-ul-Quran
(یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی)اِن لوگوں نے اُس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جُز بنا ڈالا،15 حقیقت یہ ہے کہ انسان کھُلا احسان فراموش ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزُّخْرُف 15
جُزء بنا دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے کسی بندے کو اس کی اولاد قرار دیا جائے، کیونکہ اولاد و لامحالہ باپ کی ہم جنس اور اس کے وجود کا ایک جزء ہوتی ہے، اور کسی شخص کو اللہ کا بیٹا یا بیٹی کہنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ اسے اللہ کی ذات میں شریک کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کسی مخلوق کو اللہ کا جزء بنانے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ اسے ان صفات اور اختیارات کا حامل قرار دیا جائے جو اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں، اور اسی تصور کے تحت اس سے دعائیں مانگی جائیں، یا اس کے آگے عبودیت کے مراسم ادا کیے جائیں، یا اس کی تحریم و تحلیل کو شریعت واجب الاتباع ٹھہرا لیا جائے۔ کیونکہ اس صورت میں آدمی الوہیت و ربوبیت کو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان بانٹتا ہے اور اس کا ایک جز بندوں کے حوالے کردیتا ہے۔