تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 22
بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿22﴾
- بَلْبلکہ
- قَالُوْٓاانہوں نے کہا
- اِنَّابیشک ہم نے
- وَجَدْنَآپایا ہم نے
- اٰبَآءَنَااپنے آباؤ اجداد کو
- عَلٰٓي اُمَّةٍایک طریقے پر
- وَّ اِنَّااور بیشک ہم
- عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْان کے آچار پر۔ نقش قدم پر
- مُّهْتَدُوْنَہدایت یافتہ ہیں۔ راہ پانے والے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
نہیں ، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔22
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزُّخْرُف 22
یعنی ان کے پاس کسی کتاب الہیٰ کی کوئی سند نہیں ہے بلکہ سند صرف یہ ہے کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آ رہا ہے، لہٰذا ہم بھی انہی کی تقلید میں فرشتوں کو دیویاں بنائے بیٹھے ہیں۔