Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 24

  1. وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ﴿24﴾

    1. وَاتْرُكِ الْبَحْرَاور چھوڑ دو سمندر کو
    2. رَهْوًاساکن
    3. اِنَّهُمْبیشک وہ
    4. جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَلشکر ہے غرق ہونے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
سمندر کو اس حال پر کھلا چھوڑ دے۔ یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے۔“23
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 23 یہ حکم اس وقت دیا گیا جب حضرت موسیٰ ؑ اپنے قافلہ کو لے کر سمندر پار کرچکے تھے اور چاہتے تھے کہ سمندر پر عصا مار کر اسے پھر ویسا ہی کردیں جیسا وہ پھٹنے سے پہلے تھا، تاکہ فرعون اور اس کا لشکر اس راستے سے گذر کر نہ آجائے جو معجزہ سے بنا تھا۔ اس وقت فرمایا گیا کہ ایسا نہ کرو۔ اس کو اسی طرح پھٹا کا پھٹا رہنے دو تاکہ فرعون اپنے لشکر سمیت اس راستے میں اتر آئے، پھر سمندر کو چھوڑ دیا جائے گا اور یہ پوری فوج غرق کردی جائے گی۔