تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 23
فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ﴿23﴾
- فَاَسْرِ بِعِبَادِيْتو لے چل میرے بندوں کو
- لَيْلًاراتوں رات
- اِنَّكُمْبیشک تم
- مُّتَّبَعُوْنَتم پیچھا کیے جانے والے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
(جواب دیا گیا)”اچھا تُو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ۔21 تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا۔ 22
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 21
یعنی ان سب لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ان میں بنی اسرائیل بھی تھے اور مصر کے وہ قبطی باشندے بھی جو حضرت یوسف ؑ کے زمانے سے حضرت موسیٰ ؑ کی آمد تک مسلمانوں میں شامل ہوچکے تھے، اور وہ لوگ بھی جنہوں نے حضرت موسیٰ ؑ کی نشانیاں دیکھ کر اور آپ کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر اہل مصر میں سے اسلام قبول کیا تھا۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ تفہیم القرآن جلد دوم، یوسف، حاشیہ 68)
سورة الدُّخَان 22
یہ ابتدائی حکم ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کو ہجرت کے لیے دیا گیا تھا (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، طہ، حاشیہ 53، الشعراء، حواشی 39 تا 47)