Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 32

Tafseer
  1. وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ﴿32﴾

    1. وَلَقَدِاور البتہ تحقیق
    2. اخْتَرْنٰهُمْترجیح دی تھی ہم نے ان کو
    3. عَلٰيباوجود
    4. عِلْمٍعلم کے
    5. عَلَي الْعٰلَمِيْنَجہان والوں پر
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اُن کی حالت جانتے ہوئے اُن کو دنیا کی دُوسری قوموں پر ترجیح دی،28
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 28 یعنی بنی اسرائیل کی خوبیاں اور کمزوریاں دونوں اللہ پر عیاں تھیں اس نے بےدیکھے بھالے اس کا انتخاب اندھا دھند نہیں کرلیا تھا۔ اس وقت دنیا میں جتنی قومیں موجود تھیں ان میں سے اس قوم کو جب اس نے اپنے پیغام کا حامل اور اپنی توحید کی دعوت کا علمبردار بنانے کے لیے چنا تو اس بنا پر چنا کہ اس کے علم میں وقت کی موجود قوموں میں سے یہی اس کے لیے موزوں تر تھی۔