Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 42

Tafseer
  1. اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿42﴾

    1. اِلَّامگر
    2. مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُجس پر رحم فرمائے اللہ
    3. اِنَّهٗیقینا وہ
    4. هُوَوہی
    5. الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُغالب ہے ، رحم فرمانے والا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست اور رحیم ہے۔37
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 37 ان فقروں میں بتایا گیا ہے کہ فیصلے کے دن جو عدالت قائم ہوگی اس کا کیا رنگ ہوگا۔ کسی کی مدد یا حمایت وہاں کسی مجرم کو نہ چھڑا سکے گی، نہ اس کی سزا کم ہی کرا سکے گی۔ کلی اختیارات اس حاکم حقیقی کے ہاتھ میں ہوں گے جس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی، اور جس کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کا بل بوتا کسی میں نہیں ہے۔ یہ بالکل اس کے اپنے اختیار تمیزی پر موقوف ہوگا کہ کسی پر رحم فرما کر اس کو سزا نہ دے یا کم سزا دے، اور حقیقت میں اس کی شان یہی ہے کہ انصاف کرنے میں بےرحمی سے نہیں بلکہ رحم ہی سے کام لے۔ لیکن جس کے مقدمے میں جو فیصلہ بھی وہ کرے گا وہ بہرحال بےکم وکاست نافذ ہوگا۔ عدالت الٰہی کی یہ کیفیت بیان کرنے کے بعد آگے کے چند فقروں میں بتایا گیا ہے کہ اس عدالت میں جو لوگ مجرم ثابت ہوں گے ان کا انجام کیا ہوگا، اور جن لوگوں کے بارے میں یہ ثابت ہوجائے گا کہ وہ دنیا میں خدا سے ڈر کر نافرمانیوں سے پرہیز کرتے رہے تھے، ان کو کن انعامات سے سرفراز کیا جائے گا۔