Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 6

  1. رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ﴿6﴾

    1. رَحْمَةًرحمت کے طور پر
    2. مِّنْ رَّبِّكَتیرے رب کی طرف سے
    3. اِنَّهٗبیشک وہ
    4. هُوَ السَّمِيْعُوہ سننے والا ہے
    5. الْعَلِيْمُعلم والا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
تیرے ربّ کی رحمت کے طو ر پر۔4 یقیناً وہی سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے،5
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 4 یعنی یہ کتاب دے کر ایک رسول کو بھیجنا نہ صرف حکمت کا تقاضا تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا بھی تھا، کیونکہ وہ رب ہے اور ربوبیت صرف اسی بات کی متقاضی نہیں ہے کہ بندوں کے جسم کی پرورش کا سامان کیا جائے اور انہیں تاریکی میں بھٹکتا نہ چھوڑ دیا جائے۔ سورة الدُّخَان 5 اس سیاق وسباق میں اللہ تعالیٰ کی ان دو صفت کو بیان کرنے سے مقصود لوگوں کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ صحیح علم صرف وہی دے سکتا ہے، کیونکہ تمام حقائق کو وہی جانتا ہے۔ ایک انسان تو کیا، سارے انسان مل کر بھی اگر اپنے لیے کوئی راہ حیات متعین کریں تو اس کے حق ہونے کی کوئی ضمانت نہیں، کیونکہ پوری نوع انسانی یکجار ہو کر بھی ایک سمیع وعلیم نہیں بنتی۔ اس کے بس میں یہ ہے ہی نہیں کہ ان تمام حقائق کا احاطہ کرے جن کا جاننا ایک صحیح راہ حیات متعین کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ وہی سمیع وعلیم ہے، اس لیے وہی یہ بتاسکتا ہے کہ انسان کے لیے ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا، حق کیا ہے اور باطل کیا، خیر کیا ہے اور شر کیا۔