Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 7

  1. رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ﴿7﴾

    1. رَبِّ السَّمٰوٰتِرب ہے آسمانوں کا
    2. وَالْاَرْضِاور زمین کا
    3. وَمَا بَيْنَهُمَااور جو ان دونوں کے درمیان
    4. اِنْ كُنْتُمْاگر ہو تم
    5. مُّوْقِنِيْنَیقین کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
آسمانوں اور زمین کا ربّ اور ہر اُس چیز کا ربّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو۔6
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 6 اہل عرب خود اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی کائنات اور اس کی ہر چیز کا رب (مالک و پروردگار) ہے۔ اس لیے ان سے فرمایا گیا کہ اگر تم بےسوچے سمجھے محض زبان ہی سے یہ اقرار نہیں کر رہے ہو، بلکہ تمہیں واقعی اس کی پروردگاری کا شعور اور اس کے مالک ہونے کا یقین ہے، تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ (1) انسان کی رہنمائی کے لیے کتاب اور رسول کا بھیجنا اس کی شان رحمت و پروردگاری کا عین تقاضا ہے، اور (2) مالک ہونے کی حیثیت سے یہ اس کا حق اور مملوک ہونے کی حیثیت سے یہ تمہارا فرض ہے کہ اس کی طرف سے جو ہدایت آئے اسے مانو اور جو حکم آئے اس کے آگے سر اطاعت جھکا دو۔