Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 13

  1. وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿13﴾

    1. وَسَخَّرَ لَكُمْاور اس نے مسخر کیا تمہارے لیے
    2. مَّا فِي السَّمٰوٰتِجو کچھ آسمانوں میں ہے
    3. وَمَااور جو کچھ
    4. فِي الْاَرْضِزمین میں ہے
    5. جَمِيْعًاسارے کا سارا
    6. مِّنْهُاس سے
    7. اِنَّ فِيْ ذٰلِكَبیشک اس میں
    8. لَاٰيٰتٍالبتہ نشانیاں
    9. لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَاس قوم کے لیے جو غور و فکر کرتی ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
اس نے  زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخّر کر دیا ہے،15 سب کچھ اپنے پاس سے۔۔۔۔16 اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔17
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجَاثِیَة 15 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ابراہیم، حاشیہ 44، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 35۔ سورة الْجَاثِیَة 16 اس فقرے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کا یہ عطیہ دنیا کے بادشاہوں کا سا عطیہ نہیں ہے جو رعیت سے حاصل کیا ہوا مال رعیت ہی میں سے کچھ لوگوں کو بخش دیتے ہیں، بلکہ کائنات کی ساری نعمتیں اللہ کی اپنی پیدا کردہ ہیں اور اس نے اپنی طرف سے یہ انسان کو عطا فرمائی ہیں۔ دوسرے یہ کہ نہ ان کی نعمتوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک، نہ انہیں انسان کے لیے مسخر کرنے میں کسی اور ہستی کا کوئی دخل، تنہا اللہ ہی ان کا خالق بھی ہے اور اسی نے اپنی طرف سے وہ انسان کو عطا کی ہیں۔ سورة الْجَاثِیَة 17 یعنی اس تسخیر میں اور ان چیزوں کو انسان کے لیے نافع بنانے میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ یہ نشانیاں اس حقیقت کی طرف کھلا کھلا اشارہ کر رہی ہیں کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک کائنات کی تمام اشیاء اور قوتوں کا خالق ومالک اور مدبر و منتظم ایک ہی خدا ہے جس نے ان کو ایک قانون کا تابع بنا رکھا ہے۔ اور وہی خدا انسان کا رب ہے جس نے اپنی قدرت اور حکمت اور رحمت سے ان تمام اشیاء اور وقتوں کو انسان کی زندگی، اس کی معیشت، اس کی آسائش، اس کی ترقی اور اس کی تہذیب و تمدن کے لیے سازگار و مددگار بنایا ہے۔ اور تنہا وہی خدا انسان کی عبودیت اور شکر گزاری اور نیاز مندی کا مستحق ہے نہ کہ کچھ دوسری ہستیاں جن کا نہ ان اشیاء اور قوتوں کے پیدا کرنے میں کوئی حصہ، نہ انہیں انسان کے لیے مسخر کرنے اور نافع بنانے میں کوئی دخل۔