Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 16

  1. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ﴿16﴾

    1. وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور البتہ تحقیق دی ہم نے
    2. بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل کو
    3. الْكِتٰبَکتاب
    4. وَالْحُكْمَاور حکومت
    5. وَالنُّبُوَّةَاور نبوت
    6. وَرَزَقْنٰهُمْاور رزق دیا ہم نے ان کو
    7. مِّنَسے
    8. الطَّيِّبٰتِپاکیزہ چیزوں میں (سے)
    9. وَفَضَّلْنٰهُمْاور فضیلت دی ہم نے ان کو
    10. عَلَي الْعٰلَمِيْنَتمام جہانوں پر
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِس سے پہلے بنی اسرائیل  کو ہم نے کتاب اور حُکم20 اور نبوّت عطا کی تھی۔ اُن کو ہم نے عمدہ سامانِ زیست سے نوازا ، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی،21
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجَاثِیَة 20 حکم سے مراد تین چیزیں ہیں۔ ایک، کتاب کا علم و فہم اور دین کی سمجھ۔ دوسرے، کتاب کے منشا کے مطابق کام کرنے کی حکمت۔ تیسرے، معاملات میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت۔ سورة الْجَاثِیَة 21 یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انہیں تمام دنیا والوں پر فضیلت عطا کردی، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں دنیا کی تمام قوموں میں سے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے چن لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ کے حامل ہوں اور خدا پرستی کے علمبردار بن کر اٹھیں۔