Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 25

  1. وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿25﴾

    1. وَاِذَا تُتْلٰىاور جب پڑھی جاتی ہیں
    2. عَلَيْهِمْان پر
    3. اٰيٰتُنَاہماری آیات ۔ نشانیاں
    4. بَيِّنٰتٍروشن
    5. مَّا كَانَنہیں ہوتی
    6. حُجَّتَهُمْان کی حجت
    7. اِلَّآمگر
    8. اَنْ قَالُوایہ کہ وہ کہتے ہیں
    9. ائْتُوْالاؤ
    10. بِاٰبَآئِنَآہمارے باپ دادا کو
    11. اِنْ كُنْتُمْاگر ہو تم
    12. صٰدِقِيْنَسچے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب ہماری واضح آیات انہیں سُنائی جاتی ہیں35 تو اِن کے پاس کوئی حجّت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ داد کو اگر تم سچے ہو۔36
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجَاثِیَة 35 یعنی وہ آیات جن میں آخرت کے امکان پر مضبوط عقلی دلائل دیے گئے ہیں، اور جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کا ہونا عین حکمت و انصاف کا تقاضا ہے اور اس کے نہ ہونے سے یہ سارا نظام عالم بےمعنی ہوجاتا ہے۔ سورة الْجَاثِیَة 36 دوسرے الفاظ میں ان کی اس حجت کا مطلب یہ تھا کہ جب کوئی ان سے یہ کہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہوگی تو اسے لازماً قبر سے ایک مردہ اٹھا کر ان کے سامنے لے آنا چاہیے۔ اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو وہ یہ نہیں مان سکتے کہ مرے ہوئے انسان کسی وقت از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جانے والے ہیں۔ حالانکہ یہ بات سرے سے کسی نے بھی ان سے نہیں کہی تھی کہ اس دنیا میں متفرق طور پر وقتاً فوقتاً مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جاتا رہے گا۔ بلکہ جو کچھ کہا گیا تھا وہ یہ تھا کہ قیامت کے بعد اللہ تعالیٰ بیک وقت تمام انسانوں کو از سر نو زندہ کرے گا اور ان سب کے اعمال کا محاسبہ کر کے جزا اور سزا کا فیصلہ فرمائے گا۔