تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 26
قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿26﴾
- قُلِ اللّٰهُکہہ دیجئے اللہ
- يُحْيِيْكُمْزندہ کرتا ہے تم کو
- ثُمَّ يُمِيْتُكُمْپھر موت دے گا تم کو
- ثُمَّ يَجْمَعُكُمْپھر جمع کرے گا تم کو
- اِلٰى يَوْمِدن تک
- الْقِيٰمَةِقیامت کے
- لَا رَيْبَ فِيْهِنہیں کوئی شک اس میں
- وَلٰكِنَّلیکن
- اَكْثَرَ النَّاسِاکثر لوگ
- لَا يَعْلَمُوْنَعلم نہیں رکھتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبی ؐ ، اِن سے کہو، اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے،37 پھر وہی تم کو اُس قیامت کی دن جمع کر ے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، 38مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔39
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجَاثِیَة 37
یہ جواب ہے ان کی اس بات کا کہ موت گردش ایام سے آپ ہی آپ آجاتی ہے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ نہ تمہیں زندگی اتفاقاً ملتی ہے، نہ تمہاری موت خود بخود واقع ہوجاتی ہے۔ ایک خدا ہے جو تمہیں زندگی دیتا ہے اور وہی اسے سلب کرتا ہے۔
سورة الْجَاثِیَة 38
یہ جواب ہے ان کی اس بات کا کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ یہ اب نہیں ہوگا، اور متفرق طور پر نہیں ہوگا، بلکہ ایک دن سب انسانوں کے جمع کرنے کے لیے مقرر ہے۔
سورة الْجَاثِیَة 39
یعنی جہالت اور قصور فکر و نظر ہی لوگوں کے انکار آخرت کا اصل سبب ہے، ورنہ حقیقت میں تو آخرت کا ہونا نہیں بلکہ، اس کا نہ ہونا بعید از عقل ہے۔ کائنات کے نظام اور خود اپنے وجود پر کوئی شخص صحیح طریقہ سے غور کرے تو اسے خود محسوس ہوجائے گا کہ آخرت کے آنے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔