Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 8

  1. یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿8﴾

    1. يَّسْمَعُوہ سنتا ہے
    2. اٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی آیات کو
    3. تُتْلٰى عَلَيْهِپڑھی جاتی ہیں اس پر
    4. ثُمَّپھر
    5. يُصِرُّوہ اڑ جاتا ہے۔ اصرار کرتا ہے
    6. مُسْتَكْبِرًاتکبر کرتے ہوئے
    7. كَاَنْ لَّمْگویا کہ نہیں
    8. يَسْمَعْهَااس نے سنا اس کو
    9. فَبَشِّرْهُتو خوش خبری دے دو اس کو
    10. بِعَذَابٍ اَلِيْمٍدردناک عذاب کی
Translation · Tafheem-ul-Quran
جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں ، اور وہ اُن کو سُنتا ہے، پھر پُورے اِستکبار کے ساتھ اپنے کُفر پر اِس طرح اَڑا رہتا ہے کہ گویا اُس نے  اُن کو سُنا ہی نہیں۔9 ایسے شخص کو دردناک عذاب کا مُژدہ سُنا دو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجَاثِیَة 9 بالفاظ دیگر فرق اور بہت بڑا فرق ہے اس شخص میں جو نیک نیتی کے ساتھ اللہ کی آیات کو کھلے دل سے سنتا اور سنجیدگی کے ساتھ ان پر غور کرتا ہے، اور اس شخص میں جو انکار کا پیشگی فیصلہ کر کے سنتا ہے اور کسی غور و فکر کے بغیر اپنے اسی فیصلے پر قائم رہتا ہے جو ان آیات کو سننے سے پہلے وہ کرچکا تھا۔ پہلی قسم کا آدمی اگر آج ان آیات کو سن کر ایمان نہیں لا رہا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ کافر رہنا چاہتا ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مزید اطمینان کا طالب ہے۔ اس لیے اگر اس کے ایمان لانے میں دیر بھی لگ رہی ہے تو یہ بات عین متوقع ہے کہ کل کوئی دوسری آیت اس کے دل میں اتر جائے اور وہ مطمئن ہو کر مان لے لیکن دوسری قسم کا آدمی کبھی کوئی آیت سن کر بھی ایمان نہیں لا سکتا۔ کیونکہ وہ پہلے ہی آیات الہٰی کے لیے اپنے دل کے دروازے بند کرچکا ہے۔ اس حالت میں بالعموم وہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں جن کے اندر تین صفات موجود ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ جھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے صداقت ان کو اپیل نہیں کرتی۔ دوسرے یہ کہ وہ بد عمل ہوتے ہیں، اس لیے کسی ایسی تعلیم و ہدایت کو مان لینا انہیں سخت ناگوار ہوتا ہے جو ان پر اخلاقی پابندیاں عائد کرتی ہو۔ تیسرے یہ کہ وہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں ہمیں کوئی کیا سکھائے گا، اس لیے اللہ کی جو آیات انہیں سنائی جاتی ہیں ان کو وہ سرے سے کسی غور و فکر کا مستحق ہی نہیں سمجھتے اور ان کے سننے کا حاصل بھی وہی کچھ ہوتا ہے جو نہ سننے کا تھا۔