Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 9

  1. وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ﴿9﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. عَلِمَوہ جان لیتا ہے
    3. مِنْ اٰيٰتِنَاہماری آیات میں سے
    4. شَيْئَۨاکوئی چیز
    5. اتَّخَذَهَابنالیتا ہے اس کو
    6. هُزُوًامذاق
    7. اُولٰٓئِكَیہی لوگ
    8. لَهُمْان کے لیے
    9. عَذَابٌ مُّهِيْنٌعذاب ہے رسوا کرنے والا۔ ذلیل کرنے والے
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہماری آیات میں سے کوئی بات جب اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اُن کا مذاق بنا لیتا ہے۔10 ایسے سب لوگوں کے لیے ذلّت کا عذاب ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجَاثِیَة 10 یعنی اس ایک آیت کا مذاق اڑانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ تمام آیات کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ مثلاً جب وہ سنتا ہے کہ قرآن میں فلاں بات بیان ہوئی ہے تو اسے سیدھے معنی میں لینے کے بجائے پہلے تو اسی میں کوئی ٹیڑھ تلاش کر کے نکال لاتا ہے تاکہ اسے مذاق کا موضوع بنائے، پھر اس کا مذاق اڑانے کے بعد کہتا ہے اجی ان کے کیا کہنے ہیں، وہ تو روز ایک سے ایک نرالی بات سنا رہے ہیں، دیکھو فلاں آیت میں انہوں نے یہ دلچسپ بات کہی ہے، اور فلاں آیت کے لطائف کا تو جواب ہی نہیں ہے۔