تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 16
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ﴿16﴾
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- الَّذِيْنَوہ جو کہ
- نَتَقَبَّلُہم قبول کرتے ہیں
- عَنْهُمْان سے
- اَحْسَنَبہترین (عمل)
- مَاجو
- عَمِلُوْاانہوں نے کئے
- وَنَتَجَاوَزُاور ہم درگزر کرتے ہیں
- عَنْ سَيِّاٰتِهِمْان کی بُرائیوں سے
- فِيْٓ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ ۭاہل جنت میں
- وَعْدَ الصِّدْقِسچا وعدہ
- الَّذِيْوہ جو
- كَانُوْا يُوْعَدُوْنَانہیں وعدہ دیا جاتا تھا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی بُرائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔21 یہ جنّتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْقَاف 21
یعنی دنیا میں انہوں نے جو بہتر سے بہتر عمل کیا ہے آخرت میں اسی کے لحاظ سے مقرر کیا جائے گا۔ اور ان کی لغزشوں، کمزوریوں اور خطاؤں پر گرفت نہیں کی جائے گی یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک کریم النفس اور قدر شناس آقا اپنے خدمت گذار اور وفادار ملازم کی قدر اس کی چھوٹی چھوٹی خدمات کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس کی کسی ایسی خدمت کے لحاظ سے کرتا ہے جس میں اس نے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو، یا جانثاری یا وفا شعاری کا کمال کر دکھایا ہو۔ اور ایسے خادم کے ساتھ وہ یہ معاملہ نہیں کیا کرتا کہ اس کی ذرا ذرا سی کوتاہیوں پر گرفت کر کے اس کی ساری خدمت پر پانی پھیر دے۔