تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 26
وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿26﴾
- وَلَقَدْاور البتہ
- مَكَّنّٰهُمْہم نے ان کو قدرت دی تھی
- فِيْمَآاس میں
- اِنْنہیں
- مَّكَّنّٰكُمْہم نے قدرت دی تمہیں
- فِيْهِاس میں، پر
- وَجَعَلْنَااور ہم نے بنائے، دئیے
- لَهُمْانہیں
- سَمْعًاکان
- وَّاَبْصَارًااور آنکھیں
- وَّاَفْئِدَةً ڮاور دل (جمع)
- فَمَآ اَغْنٰىتو نہ کام آئے
- عَنْهُمْان کے
- سَمْعُهُمْان کے کان
- وَلَآ اَبْصَارُهُمْاور نہ ان کی آنکھیں
- وَلَآ اَفْئِدَتُهُمْاور نہ دل ان کے
- مِّنْ شَيْءٍکچھ بھی
- اِذْجب
- كَانُوْا يَجْحَدُوْنَ ۙوہ انکار کرتے تھے
- بِاٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی آیات کا
- وَحَاقَاور اس نے گھیر لیا
- بِهِمْان کو
- مَّا كَانُوْاجو وہ تھے
- بِهٖاس کا
- يَسْتَهْزِءُوْنَمذاق اڑاتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔30 اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے،31 اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْقَاف 30
یعنی مال، دولت، طاقت، اقتدار، کسی چیز میں بھی تمہارا اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ تمہارا دائرہ اقتدار تو شہر مکہ کے حدود سے باہر کہیں بھی نہیں اور وہ زمین کے ایک بڑے حصے پر چھائے ہوئے تھے۔
سورة الْاَحْقَاف 31
اس مختصر سے فقرے میں ایک اہم حقیقت بیان کی گئی ہے۔ خدا کی آیات ہی وہ چیز ہیں جو انسان کو حقیقت کا فہم و ادراک بخشتی ہیں۔ یہ فہم و ادراک انسان کو حاصل ہو تو وہ آنکھوں سے ٹھیک دیکھتا ہے، کانوں سے ٹھیک سنتا ہے، اور دل و دماغ سے ٹھیک سوچتا اور صحیح فیصلے کرتا ہے لیکن جب وہ آیات الٰہی کو ماننے سے انکار کردیتا ہے تو آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اسے نگاہ حق شناس نصیب نہیں ہوتی، کان رکھتے ہوئے بھی وہ ہر کلمہ نصیحت کے لیے بہرہ ہوتا اور دل و دماغ کی جو نعمتیں خدا نے اسے دی ہیں ان سے الٹی سوچتا اور ایک سے ایک غلط نتیجہ اخذ کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی ساری قوتیں خود اس کی اپنی ہی تباہی میں صرف ہونے لگتی ہیں۔