تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 46. Al-Ahqaf · Ayah 8
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴿8﴾
- اَمْ يَقُوْلُوْنَکیا وہ کہتے ہیں
- افْتَرٰىهُ ۭاس نے خود بنالیا ہے اسے
- قُلْفرمادیں
- اِنِ افْتَرَيْتُهٗاگر میں نے خود بنالیا ہے اسے
- فَلَا تَمْلِكُوْنَتو تم اختیار نہیں رکھتے
- لِيْمیرے لئے
- مِنَ اللّٰهِاللہ سے
- شَيْئًا ۭکچھ بھی
- هُوَ اَعْلَمُوہ خوب جانتا ہے
- بِمَاوہ جو
- تُفِيْضُوْنَتم باتیں بناتے ہو
- فِيْهِ ۭاس میں
- كَفٰىوہ کافی ہے
- بِهٖاس کا
- شَهِيْدًۢاگواہ
- بَيْنِيْمیرے درمیان
- وَبَيْنَكُمْ ۭاور تمہارے درمیان
- وَهُوَاور وہ
- الْغَفُوْرُبخشنے والا
- الرَّحِيْمُرحم کرنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسُول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟9 اِن سے کہو ”اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہواللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے،10 اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔“11
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَحْقَاف 9
اس سوالیہ طرز بیان میں سخت تعجب کا انداز پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا یہ لوگ اتنے بےحیا ہیں کہ محمد ﷺ پر قرآن خود گھڑ لانے کا الزام رکھتے ہیں ؟ حالانکہ انہیں خوب معلوم ہے کہ یہ ان کا تصنیف کردہ کلام نہیں ہو سکتا، اور ان کا اسے سحر کہنا خود اس امر کا صریح اعتراف ہے کہ یہ غیر معمولی کلام ہے جس کا کسی انسان کی تصنیف ہونا ان کے اپنے نزدیک بھی ممکن نہیں ہے۔
سورة الْاَحْقَاف 10
چونکہ ان کے الزام کا محض بےاصل اور سراسر ہٹ دھرمی پر مبنی ہونا بالکل ظاہر تھا اس لیے اس کی تردید میں دلائل پیش کرنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ پس یہ کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ اگر واقعی میں نے خود ایک کلام تصنیف کر کے اللہ کی طرف منسوب کرنے کا جرم عظیم کیا ہے، جیسا کہ تم الزام رکھتے ہو، تو مجھے خدا کی پکڑ سے بچانے کے لیے تم نہ آؤ گے، لیکن اگر یہ خدا ہی کا کلام ہے اور تم جھوٹے الزامات رکھ رکھ کر اسے رد کر رہے ہو تو اللہ تم سے نمٹ لے گا۔ حقیقت اللہ سے چھپی ہوئی نہیں ہے، اور جھوٹ سچ کا فیصلہ کرنے کے لیے وہ بالکل کافی ہے۔ ساری دنیا اگر کسی کو جھوٹا کہے اور اللہ کے علم میں وہ سچا ہو تو آخری فیصلہ لازماً اسی کے حق میں ہوگا۔ اور ساری دنیا اگر کسی کو سچا کہہ دے، مگر اللہ کے علم میں وہ جھوٹا ہو، تو آخر کار وہ جھوٹا ہی قرار پائے گا۔ لہٰذا الٹی سیدھی باتیں بنانے کے بجائے اپنے انجام کی فکر کرو۔
سورة الْاَحْقَاف 11
اس مقام پر یہ فقرہ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ فی الواقع یہ اللہ کا رحم اور اس کا درگزر ہی ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ زمین میں سانس لے رہے ہیں جنہیں خدا کے کلام کو افترا قرار دینے میں کوئی باک نہیں اور نہ کوئی بےرحم اور سخت گیر خدا اس کائنات کا مالک ہوتا تو ایسی جسارتیں کرنے والوں کو ایک سانس کے بعد دوسرا سانس لینا نصیب نہ ہوتا۔ دوسرا مطلب اس فقرے کا یہ ہے کہ ظالمو، اب بھی اس ہٹ دھرمی سے باز آجاؤ تو خدا کی رحمت کا دروازہ تمہارے لیے کھلا ہوا ہے، اور جو کچھ تم نے اب تک کیا ہے وہ معاف ہوسکتا ہے۔