Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 2

  1. وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ﴿2﴾

    1. وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
    2. اٰمَنُوْاایمان لائے
    3. وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کئے
    4. الصّٰلِحٰتِاچھے
    5. وَاٰمَنُوْااور وہ ایمان لائے
    6. بِمَا نُزِّلَاس پر جو نازل کیا گیا
    7. عَلٰي مُحَمَّدٍمحمد پر
    8. وَّهُوَاور وہ
    9. الْحَقُّحق
    10. مِنْ رَّبِّهِمْ ۙان کے رب سے
    11. كَفَّرَاس نے دور کردئیے
    12. عَنْهُمْان سے
    13. سَيِّاٰتِهِمْان کی بُرائیاں (گناہ)
    14. وَاَصْلَحَاور درست کردیا
    15. بَالَهُمْان کا حال
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جو لوگ ایما ن لائے  اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اس چیز کو مان لیا جو محمد ؐ  پر نازل ہوئی ہے۔۔۔۔اور4 ہے وہ سراسر حق ان کے رب کی طرف سے۔۔۔۔اللہ نے  ان کی  برائیاں ان سے دور کر دیں 5اور ان کا حال درست کر دیا۔6
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 4 4۔ اگرچہ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کہنے کے بعد اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّ لَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ کہنے کی حاجت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ ایمان لانے میں محمد ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی تعلیمات پر ایمان لانا آپ سے آپ شامل ہے، لیکن اس کا الگ ذکر خاص طور پر یہ جتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ محمد ﷺ کے مبعوث ہوجانے کے بعد کسی شخص کا خدا اور آخرت اور پچھلے رسولوں اور پچھلی کتابوں کا ماننا بھی اس وقت تک نافع نہیں ہے جب تک کہ وہ آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو نہ مان لے۔ یہ تصریح اس لیے ضروری تھی ہجرت کے بعد اب مدینہ طیبہ میں ان لوگوں سے بھی سابقہ در پیش تھا جو ایمان کے دوسرے تمام لوازم کو تو مانتے تھے مگر محمد ﷺ کی رسالت کو ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ سورة مُحَمَّد 5 5۔ اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جاہلیت کے زمانے میں جو گناہ ان سے سرزد ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے وہ سب ان کے حساب سے ساقط کردیے۔ اب ان گناہوں پر کوئی باز پرس ان سے نہ ہوگی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ عقائد اور خیالات اور اخلاق اور اعمال کی جن خرابیوں میں وہ مبتلا تھے، اللہ تعالیٰ نے وہ ان سے دور کردیں۔ ان کے ذہن بدل گیے۔ ان کے عقائد اور خیالات بدل گیے۔ ان کی عادتیں اور خصلتیں بدل گئیں۔ ان کی سیرتیں اور ان کے کردار بدل گئے۔ اب ان کے اندر جاہلیت کی جگہ ایمان ہے اور بد کرداریوں کی جگہ عمل صالح۔ سورة مُحَمَّد 6 اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ پچھلی حالت کو بدل کر آئندہ کے لیے اللہ نے ان کو صحیح راستے پر ڈال دیا اور ان کی زندگیاں سنوار دیں۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ جس کمزوری و بےبسی اور مظلومی کی حالت میں وہ اب تک مبتلا تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے نکال دیا ہے۔ اب اس نے ایسے حالات ان کے لیے پیدا کردیے ہیں جن میں وہ ظلم سہنے کے بجائے ظالموں کا مقابلہ کریں گے، محکوم ہو کر رہنے کے بجائے اپنی زندگی کا نظام خود آزادی کے ساتھ چلائیں گے، اور مغلوب ہونے کے بجائے غالب ہو کر رہیں گے۔