Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 3

  1. ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ﴿3﴾

    1. ذٰلِكَیہ
    2. بِاَنَّاس لئے کہ
    3. الَّذِيْنَجن لوگوں نے
    4. كَفَرُواکفر کیا
    5. اتَّبَعُواانہوں نے پیروی کی
    6. الْبَاطِلَباطل کی
    7. وَاَنَّ الَّذِيْنَاور یہ کہ جو لوگ
    8. اٰمَنُواایمان لائے
    9. اتَّبَعُواانہوں نے پیروی کی
    10. الْحَقَّحق کی
    11. مِنْسے
    12. رَّبِّهِمْ ۭاپنا رب
    13. كَذٰلِكَاسی طرح
    14. يَضْرِبُ اللّٰهُاللہ بیان کرتا ہے
    15. لِلنَّاسِلوگوں کے لئے
    16. اَمْثَالَهُمْان کی مثالیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ اس طرح اللہ لوگوں کو ان کی ٹھیک ٹھیک حیثیت بتائے دیتا ہے۔7
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 7 اصل الفاظ ہیں " کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہ للنَّاسِ اَمْثَالَھُمْ "۔ اس فقرے کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ " اس طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کی مثالیں دیتا ہے "۔ لیکن اس لفظی ترجمہ سے اصل مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ اصل مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح فریقین کو ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک بتائے دیتا ہے۔ ایک فریق باطل کی پیروی پر مصر ہے اس لیے اللہ نے اس کی ساری سعی و عمل کو لا حاصل کردیا ہے۔ اور دوسرے فریق نے حق کی پیروی اختیار کی ہے اس لیے اللہ نے اس کو برائیوں سے پاک کر کے اس کے حالات درست کردیے ہیں۔