تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 27
فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ﴿27﴾
- فَكَيْفَپس کیسا
- اِذَا تَوَفَّتْهُمُجب ان کی روح قبض کریں گے
- الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
- يَضْرِبُوْنَوہ مارتے ہیں
- وُجُوْهَهُمْان کے چہروں
- وَاَدْبَارَهُمْاور ان کی پیٹھوں
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر اس وقت کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کےمنہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انھیں لے جائیں گے؟37
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 37
یعنی دنیا میں تو یہ طرز عمل انہوں نے اس لیے اختیار کرلیا کہ اپنے مفادات کی حفاظت کرتے رہیں اور کفر و اسلام کی جنگ کے خطرات سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں، لیکن مرنے کے بعد یہ خدا کی گرفت سے بچ کر کہاں جائیں گے ؟ اس وقت تو ان کی کوئی تدبیر فرشتوں کی مار سے ان کو نہ بچا سکے گی۔
یہ آیت بھی ان آیات میں سے ہے جو عذاب برزخ (یعنی عذاب قبر) کی تصریح کرتے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت ہی کفار و منافقین پر عذاب شروع ہوجاتا ہے، اور یہ عذاب اس سزا سے مختلف چیز ہے جو قیامت میں ان کے مقدمے کا فیصلہ ہونے کے بعد ان کو دی جائے گی۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو النساء، آیت 97۔ الانعام، 93۔ 94۔ الانفال، 50۔ النحل، 28۔ 32۔ المومنون، 99۔ 100۔ یٰس، 26۔ 27 (مع حاشیہ 22، 23) المومن، 46 (مع حاشیہ۔ 63)۔