تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 28
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ع﴿28﴾
- ذٰلِكَیہ
- بِاَنَّهُمُاس لئے کہ انہوں نے
- اتَّبَعُوْاپیروی کی
- مَآ اَسْخَطَجس نے ناراض کیا
- اللّٰهَاللہ کو
- وَكَرِهُوْااور انہوں نے پسند نہ کیا
- رِضْوَانَهٗاس کی رضا
- فَاَحْبَطَتو اس نے اکارت کردئیے
- اَعْمَالَهُمْان کے اعمال
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ اسی لیے تو ہو گا کہ انہوں نے اس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا۔ اسی بنا پر اس نے ان کے سب اعمال ضائع کر دیے۔38
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 38
اعمال سے مراد وہ تمام اعمال ہیں جو مسلمان بن کر وہ انجام دیتے رہے۔ ان کی نمازیں، ان کے روزے، ان کی زکوٰۃ، غرض وہ تمام عبادتیں اور وہ ساری نیکیاں جو اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے اعمال خیر میں شمار ہوتی تھیں اس بنا پر ضائع ہوگئیں کہ انہوں نے مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ اور اس کے دین اور ملت اسلامیہ کے ساتھ اخلاص و وفاداری کا رویہ اختیار نہ کیا، بلکہ محض اپنے دنیوی مفاد کے لیے دشمنان دین کے ساتھ ساز باز کرتے رہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کا موقع آتے ہی اپنے آپ کو خطرات سے بچانے کی فکر میں لگ گئے۔
یہ آیات اس معاملہ میں بالکل ناطق ہیں کہ کفر و اسلام کی جنگ میں جس شخص کی ہمدردیاں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ نہ ہوں، یا کفر اور کفار کے ساتھ ہوں، اس کا ایمان ہی سرے سے معتبر نہیں ہے کجا کہ اس کا کوئی عمل خدا کے ہاں مقبول ہو۔