تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 35
فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ﴿35﴾
- فَلَا تَهِنُوْاپس تم سستی نہ کرو
- وَتَدْعُوْٓااور نہ بلاؤ
- اِلَى السَّلْمِ ڰصلح کی طرف
- وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ڰاور تم ہی غالب
- وَاللّٰهُاور اللہ
- مَعَكُمْتمہارے ساتھ
- وَلَنْ يَّتِرَكُمْاور وہ ہرگز کمی نہ کریگا
- اَعْمَالَكُمْتمہارے اعمال میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو۔41 تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہر گز ضائع نہ کریگا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 41
یہاں یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ یہ ارشاد اس زمانے میں فرمایا گیا ہے جب صرف مدینے کی چھوٹی سی بستی میں چند سو مہاجرین و انصار کی ایک مٹھی بھر جمیعت اسلام کی علمبرداری کر رہی تھی اور اس کا مقابلہ محض قریش کے طاقتور قبیلے ہی سے نہیں بلکہ پورے ملک عرب کے کفار و مشرکین سے تھا۔ اس حالت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ہمت ہار کر ان دشمنوں سے صلح کی درخواست نہ کرنے لگو، بلکہ سر دھڑ کی بازی لگا دینے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمانوں کو کبھی صلح کی بات چیت کرنی ہی نہ چاہیے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی حالت میں صلح کی سلسلہ جنبانی کرنا درست نہیں ہے جب اس کے معنی اپنی کمزوری کے اظہار کے ہوں اور اس سے دشمن اور زیادہ دلیر ہوجائیں۔ مسلمانوں کو پہلے اپنی طاقت کا لوہا منوا لینا چاہیے، اس کے بعد وہ صلح کی بات چیت کریں تو مضائقہ نہیں۔