Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 47. Muhammad · Ayah 36

  1. اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ﴿36﴾

    1. اِنَّمَااس کے سوا نہیں
    2. الْحَيٰوةُ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
    3. لَعِبٌکھیل
    4. وَّلَهْوٌ ۭاور کود
    5. وَاِنْاور اگر
    6. تُؤْمِنُوْاایمان لے آؤ
    7. وَتَتَّقُوْااور تقوی اختیار کرو
    8. يُؤْتِكُمْوہ تمہیں دے گا
    9. اُجُوْرَكُمْتمہارے اجر
    10. وَلَا يَسْئَلْكُمْاور نہ طلب کرے گا تم سے
    11. اَمْوَالَكُمْتمہارے مال
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ دنیا کی زندگی  تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔42 اگر تم ایمان رکھو اور تقوٰی کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا۔43
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مُحَمَّد 42 یعنی آخرت کے مقابلے میں اس دنیا کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ چند روز کا دل بہلاوا ہے۔ یہاں کی کامرانی و ناکامی کوئی حقیقی اور پائیدار چیز نہیں ہے جسے کوئی اہمیت حاصل ہو۔ اصل زندگی آخرت کی ہے جس کی کامیابی کے لیے انسان کو فکر کرنی چاہیے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، تفسیر سورة عنکبوت، حاشیہ 102)۔ سورة مُحَمَّد 43 یعنی وہ غنی ہے، اسے اپنی ذات کے لیے تم سے لینے کی کچھ ضرورت نہیں ہے۔ اگر وہ اپنی راہ میں تم سے کچھ خرچ کرنے کے لیے کہتا ہے تو وہ اپنے لیے نہیں بلکہ تمہاری ہی بھلائی کے لیے کہتا ہے۔