Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 48. Al-Fath · Ayah 15

  1. سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا﴿15﴾

    1. سَيَقُوْلُعنقریب کہیں گے
    2. الْمُخَلَّفُوْنَپیچھے بیٹھ رہنے والے
    3. اِذَا انْطَلَقْتُمْجب تم چلوگے
    4. اِلٰى مَغَانِمَغنیمتوں کے ساتھ
    5. لِتَاْخُذُوْهَاکم تم انہیں لے لو
    6. ذَرُوْنَاہمیں چھوڑدو (اجازت دو )
    7. نَتَّبِعْكُمْ ۚہم تمہارے پیچھے چلیں
    8. يُرِيْدُوْنَوہ چاہتے ہیں
    9. اَنْ يُّبَدِّلُوْاکہ وہ بدل ڈالیں
    10. كَلٰمَ اللّٰهِ ۭاللہ کا فرمودہ
    11. قُلْفرمادیں
    12. لَّنْ تَتَّبِعُوْنَاتم ہرگز ہمارے پیچھے نہ آؤ
    13. كَذٰلِكُمْاسی طرح
    14. قَالَ اللّٰهُکہا اللہ نے
    15. مِنْ قَبْلُ ۚاس سے قبل
    16. فَسَيَقُوْلُوْنَپھر اب وہ کہیں گے
    17. بَلْبلکہ
    18. تَحْسُدُوْنَنَا ۭتم حسد کرتے ہو ہم سے
    19. بَلْبلکہ، جبکہ
    20. كَانُوْا لَا يَفْقَهُوْنَوہ سمجھتے نہیں ہیں
    21. اِلَّا قَلِيْلًامگر تھوڑا
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب تم مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو۔27 یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔28 ان سے صاف کہہ دینا کہ ”تم ہر گز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ،اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے۔“29 یہ کہیں گے کہ”نہیں، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو“۔(حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے)بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْفَتْح 27 یعنی عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب یہی لوگ، جو آج خطرے کی مہم پر تمہارے ساتھ جانے سے جی چرا گئے تھے، تمہیں ایک ایسی مہم پر جاتے دیکھیں گے جس میں ان کو آسان فتح اور بہت سے اموال غنیمت کے حصول کا امکان نظر آئے گا، اور اس وقت یہ خود دوڑے آئیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو۔ یہ وقت صلح حدیبیہ کے تین ہی مہینے بعد آگیا جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر پر چڑھائی کی اور بڑی آسانی کے ساتھ اسے فتح کرلیا۔ اس وقت ہر شخص کو یہ بات صاف نظر آ رہی تھی کہ قریش سے صلح ہوجانے کے بعد اب خیبر ہی کے نہیں، بلکہ تیما، فَدَک، وادی القریٰ ، اور شمالی حجاز کے دوسرے یہودی بھی مسلمانوں کی طاقت کا مقابلہ نہ کرسکیں گے اور یہ ساری بستیاں پکے پھل کی طرح اسلامی حکومت کی گود میں آ گریں گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ان آیات میں پیشگی خبردار کردیا کہ اطراف مدینہ کے یہ موقع پرست لوگ ان آسان فتوحات کو حاصل ہوتے دیکھ کر ان میں حصہ بٹا لینے کے لیے آ کھڑے ہوں گے، مگر تم انہیں صاف جواب دے دینا کہ ان میں حصہ لینے کا موقع تمہیں ہرگز نہ دیا جائے گا، بلکہ یہ ان لوگوں کا حق ہے جو خطرات کے مقابلے میں سرفروشی کے لیے آگے بڑھے تھے۔ سورة الْفَتْح 28 اللہ کے فرمان سے مراد یہ فرمان ہے کہ خیبر کی مہم پر حضور ﷺ کے ساتھ صرف انہی لوگوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی جو حدیبیہ کی مہم پر آپ کے ساتھ گئے تھے اور بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے خیبر کے اموال غنیمت ان ہی کے لیے مخصوص فرما دیے تھے جیسا کہ آگے آیت 18 میں بصراحت ارشاد ہوا ہے۔ سورة الْفَتْح 29 " اللہ پہلے یہ فرما چکا ہے " کے الفاظ سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ اس آیت سے پہلے کوئی حکم اس مضمون کا آیا ہوا ہوگا جس کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے، اور چونکہ اس سورة میں اس مضمون کا کوئی حکم اس آیت سے پہلے نہیں ملتا اس لیے انہوں نے قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اسے تلاش کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ سورة توبہ کی آیت 84 انہیں مل گئی جس میں یہی مضمون ایک اور موقع پر ارشاد ہوا ہے۔ لیکن درحقیقت وہ آیت اس کی مصداق نہیں ہے، کیونکہ وہ غزوہ تبوک کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی جس کا زمانہ نزول سورة فتح کے زمانہ نزول سے تین سال بعد کا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس آیت کا اشارہ خود اسی سورة کی آیات 18۔ 19 کی طرف ہے، اور اللہ کے پہلے فرما چکنے کا مطلب اس آیت سے پہلے فرمانا نہیں ہے بلکہ مخلَّفین کے ساتھ اس گفتگو سے پہلے فرمانا ہے۔ مخلَّفین کے ساتھ یہ گفتگو، جس کے متعلق یہاں رسول اللہ ﷺ کو پیشگی ہدایات دی جا رہی ہیں، خیبر کی مہم پر جانے کے وقت ہونے والی تھی، اور یہ پوری سورة ، جس میں آیات 18۔ 19 بھی شامل ہیں، اس سے تین مہینے پہلے حدیبیہ سے پلٹتے وقت راستے میں نازل ہوچکی تھیں۔ سلسلہ کلام کو غور سے دیکھیے تو معلوم ہوجائے گا کہ یہاں اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو یہ ہدایت دے رہا ہے کہ جب تمہارے مدینہ واپس ہونے کے بعد یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ آ کر تم سے یہ عذرات بیان کریں تو ان کو یہ جواب دینا، اور خیبر کی مہم پر جاتے وقت جب وہ تمہارے ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کریں تو ان سے یہ کہنا۔