تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 109
یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ﴿109﴾
- يَوْمَدن
- يَجْمَعُجمع کرے گا
- اللّٰهُاللہ
- الرُّسُلَرسول (جمع)
- فَيَقُوْلُپھر کہے گا
- مَاذَآکیا
- اُجِبْتُمْتمہیں جواب ملا
- قَالُوْاوہ کہیں گے
- لَا عِلْمَنہیں خبر
- لَنَاہمیں
- اِنَّكَبیشک تو
- اَنْتَتو
- عَلَّامُجاننے والا
- الْغُيُوْبِچھپی باتیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
جس روز122 اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پُوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا، 123تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں،124 آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمَآىِٕدَة 122
مراد ہے قیامت کا دن۔
سورة الْمَآىِٕدَة 123
یعنی اسلام کی طرف جو دعوت تم نے دنیا کو دی تھی اس کا کیا جواب دنیا نے تمہیں دیا۔
سورة الْمَآىِٕدَة 124
یعنی ہم تو صرف اس محدود ظاہری جواب کو جانتے ہیں جو ہمیں اپنی زندگی میں ملتا ہوا محسوس ہوا۔ باقی رہا یہ کہ فی الحقیقت ہماری دعوت کا رد عمل کہاں کس صورت میں کتنا ہوا، تو اس کا صحیح علم آپ کے سوا کسی کو نہیں ہوسکتا۔