تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 44
Tafseerاِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ﴿44﴾
- اِنَّابیشک ہم
- اَنْزَلْنَاہم نے نازل کی
- التَّوْرٰىةَتورات
- فِيْهَااس میں
- هُدًىہدایت
- وَّنُوْرٌاور نور
- يَحْكُمُحکم دیتے تھے
- بِهَااس کے ذریعہ
- النَّبِيُّوْنَنبی (جمع)
- الَّذِيْنَ اَسْلَمُوْاجو فرماں بردار تھے
- لِلَّذِيْنَان لوگوں کے لیے جو
- هَادُوْایہودی ہوئے (یہود کو)
- وَالرَّبّٰنِيُّوْنَاللہ والے (درویش)
- وَالْاَحْبَارُاور علما
- بِمَااس لیے کہ
- اسْتُحْفِظُوْاوہ نگہبان کیے گئے
- مِنْسے (کی)
- كِتٰبِ اللّٰهِاللہ کی کتاب
- وَكَانُوْااور تھے
- عَلَيْهِاس پر
- شُهَدَآءَنگران (گواہ)
- فَلَا تَخْشَوُاپس نہ ڈرو
- النَّاسَلوگ
- وَاخْشَوْنِاور ڈرو مجھ سے
- وَاور
- لَا تَشْتَرُوْانہ خریدو (نہ حاصل کرو)
- بِاٰيٰتِيْمیری آیتوں کے بدلے
- ثَمَنًاقیمت
- قَلِيْلًاتھوڑی
- وَمَنْاور جو
- لَّمْ يَحْكُمْفیصلہ نہ کرے
- بِمَآاس کے مطابق جو
- اَنْزَلَ اللّٰهُاللہ نے نازل کیا
- فَاُولٰٓئِكَسو یہی لوگ
- هُمُوہ
- الْكٰفِرُوْنَکافر (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نے توراة نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی، جو مُسلِم تھے، اُسی کے مطابق ان یہودی بن جانے والوں کے معاملات72 کا فیصلہ کرتے تھے، اور اِسی طرح ربّانی اور اَحبار بھی 73(اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے۔ پس (اے گروہِ یہود !) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمَآىِٕدَة 72
یہاں ضمناً اس حقیقت پر بھی متنبہ کردیا گیا کہ انبیاء سب کے سب ”مسلم“ تھے، بخلاف اس کے یہ یہودی ”اسلام“ سے ہٹ کر اور فرقہ بندی میں مبتلا ہو کر صرف ”یہودی“ بن کر رہ گئے تھے۔
سورة الْمَآىِٕدَة 73
ربانی = علماء۔ احبار = فقہاء