تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 81
وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ﴿81﴾
- وَلَوْاور اگر
- كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَوہ ایمان لائے
- بِاللّٰهِاللہ پر
- وَالنَّبِيِّاور رسول
- وَمَآاور جو
- اُنْزِلَنازل کیا گیا
- اِلَيْهِاس کی طرف
- مَانہ
- اتَّخَذُوْهُمْانہیں بناتے
- اَوْلِيَآءَدوست
- وَلٰكِنَّاور لیکن
- كَثِيْرًااکثر
- مِّنْهُمْان سے
- فٰسِقُوْنَنافرمان
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر فی الواقع یہ لوگ اللہ اور پیغمبر ؐ اور اُس چیز کے ماننے والے ہوتے جو پیغمبر ؐ پر نازل ہوئی تھی تو کبھی (اہلِ ایمان کے مقابلہ میں) کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے۔ 103مگر ان میں سے تو بیشتر لوگ خدا کی اطاعت سے نکِل چکے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمَآىِٕدَة 103
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا اور نبی اور کتاب کے ماننے والے ہوتے ہیں انہیں فطرۃً مشرکین کے مقابلہ میں ان لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ہوتی ہے جو مذہب میں خواہ ان سے اختلاف ہی رکھتے ہوں، مگر بہرحال انہی کی طرح خدا اور سلسلہ وحی و رسالت کو مانتے ہوں۔ لیکن یہ یہودی عجیب قسم کے اہل کتاب ہیں کہ توحید اور شرک کی جنگ میں کھلم کھلا مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں، اقرار نبوت اور انکار نبوت کی لڑائی میں علانیہ ان کی ہمدردیاں منکرین نبوت کے ساتھ ہیں، اور پھر بھی وہ بلا کسی شرم و حیا کے یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم خدا اور پیغمبروں اور کتابوں کے ماننے والے ہیں۔