Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 11

  1. رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ﴿11﴾

    1. رِّزْقًارزق
    2. لِّلْعِبَادِ ۙبندوں کیلئے
    3. وَاَحْيَيْنَااور ہم نے زندہ کیا
    4. بِهٖاس سے
    5. بَلْدَةًشہر (زمین)
    6. مَّيْتًا ۭمردہ
    7. كَذٰلِكَاسی طرح
    8. الْخُرُوْجُنکلنا
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ انتظام ہے بندوں کی رزق دینے کا۔ اس پانی سے ہم ایک مُردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں۔ 10 (مَرے ہوئے انسانوں کا زمین سے) نکلنا بھی اسی طرح ہوگا۔ 11
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 10 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی 73۔ 74۔ 81۔ الروم، حواشی 25۔ 33۔ 35۔ جلد چہارم، ی یسٰ ، حاشیہ 29۔ سورة قٓ 11 استدلال یہ ہے کہ جس خدا نے زمین کے اس کرے کو زندہ مخلوقات کی سکونت کے لیے موزوں مقام بنایا، اور جس نے زمین کی بےجان مٹی کو آسمان کے بےجان پانی کے ساتھ ملا کر اتنی اعلیٰ درجے کی نباتی زندگی پیدا کردی جسے تم اپنے باغوں اور کھیتوں کی شکل میں لہلہاتے دیکھ رہے ہو، اور جس نے اس نباتات کو انسان و حیوان سب کے لیے رزق کا ذریعہ بنادیا، اس کے متعلق تمہارا یہ گمان کہ وہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے، سراسر بےعقلی کا گمان ہے۔ تم اپنی آنکھوں سے آئے دن دیکھتے ہو کہ ایک علاقہ بالکل خشک اور بےجان پڑا ہوا ہے۔ بارش کا ایک چھینٹا پڑتے ہی اس کے اندر یکایک زندگی کے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، مدتوں کی مری ہوئی جڑیں یک لخت جی اٹھتی ہیں، اور طرح طرح کے حشرات الارض زمین کی تہوں سے نکل کر اچھل کود شروع کردیتے ہیں۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ موت کے بعد دوبارہ زندگی ناممکن نہیں ہے۔ اپنے اس صریح مشاہدے کو جب تم نہیں جھٹلا سکتے تو اس بات کو کیسے جھٹلاتے ہو کہ جب خدا چاہے گا تم خود بھی اسی طرح زمین سے نکل آؤ گے جس طرح نباتات کی کونپلیں نکل آتی ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عرب کی سر زمین میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں بسا اوقات پانچ پانچ برس بارش نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ مدت گزر جاتی ہے اور آسمان سے ایک خطرہ تک نہیں ٹپکتا۔ اتنے طویل زمانے تک تپتے ہوئے ریگستانوں میں گھاس کی جڑوں اور حشرات الارض کا زندہ رہنا قابل تصور نہیں ہے۔ اس کے باوجود جب وہاں کسی وقت تھوڑی سی بارش بھی ہوجاتی ہے تو گھاس نکل آتی ہے اور حشرات الارض جی اٹھتے ہیں۔ اس لیے عرب کے لوگ اس استدلال کو ان لوگوں کی بہ نسبت زیادہ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جنہیں اتنی طویل خشک سالی کا تجربہ نہیں ہوتا۔