Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 19

Tafseer
  1. وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ﴿19﴾

    1. وَجَآءَتْاور آگئی
    2. سَكْرَةُ الْمَوْتِموت کی بیہوشی
    3. بِالْحَقِّ ۭحق کے ساتھ
    4. ذٰلِكَیہ
    5. مَا كُنْتَجس سے تو تھا
    6. مِنْهُاس سے
    7. تَحِيْدُبھاگتا (بدکتا)
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر دیکھو، وہ موت کی جاں کنی حق لے کر آ پہنچی،22 یہ وہی چیز ہے جس سے تُو بھاگتا تھا۔23
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 22 حق لے کر آ پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ موت کی جانکنی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے وہ حقیقت کھلنی شروع ہوجاتی جس پر دنیا کی زندگی میں پردہ پڑا ہوا تھا۔ اس مقام سے آدمی وہ دوسرا عالم صاف دیکھنے لگتا ہے جس کی خبر انبیاء (علیہم السلام) نے دی تھی۔ یہاں آدمی کو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ آخرت بالکل برحق ہے، اور یہ حقیقت بھی اس کو معلوم ہوجاتی ہے کہ زندگی کے اس دوسرے مرحلے میں وہ نیک بخت کی حیثیت سے داخل ہو رہا ہے یا بد بخت کی حیثیت سے۔ سورة قٓ 23 یعنی یہ وہی حقیقت ہے جس کو ماننے سے تو کنی کتراتا تھا۔ تو چاہتا تھا کہ دنیا میں نتھے بیل کی طرح چھوٹا پھرے اور مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو جس میں تجھے اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے۔ اسی لیے آخرت کے تصور سے تو دور بھاگتا تھا اور کسی طرح یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ کبھی یہ عالم بھی برپا ہونا ہے۔ اب دیکھ لے، یہ وہی دوسرا علم تیرے سامنے آ رہا ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 50 : 19