تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 29
مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ع﴿29﴾
- مَانہیں
- يُبَدَّلُبدلی جاتی
- الْقَوْلُبات
- لَدَيَّمیرے پاس، ہاں
- وَمَآاور نہیں
- اَنَامیں
- بِظَلَّامٍظلم کرنے والا
- لِّلْعَبِيْدِبندوں پر
Translation · Tafheem-ul-Quran
میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی36 اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں۔“37
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 36
یعنی فیصلے بدلنے کا دستور میرے ہاں نہیں ہے۔ تم کو جہنم میں پھینک دینے کا جو حکم میں دے چکا ہوں اب واپس نہیں لیا جاسکتا۔ اور نہ اس قانون ہی کو بدلا جاسکتا ہے جس کا اعلان میں نے دنیا میں کردیا تھا کہ گمراہ کرنے اور گمراہ ہونے کی کیا سزا آخرت میں دی جائے گی۔
سورة قٓ 37
اصل میں لفظ " ظَلَّام " استعمال ہوا ہے جس کے معنی بہت بڑے ظالم کے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے بندوں کے حق میں ظالم تو ہوں مگر بہت بڑا ظالم نہیں ہوں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں خالق اور رب ہو کر اپنی ہی پروردہ مخلوق پر ظلم کروں تو بہت بڑا ظالم ہوں گا۔ اس لیے میں سرے سے کوئی ظلم بھی اپنے بندوں پر نہیں کرتا۔ یہ سزا جو میں تم کو دے رہا ہوں یہ ٹھیک ٹھیک وہی سزا ہے جس کا مستحق تم نے اپنے آپ کو خود بنایا ہے۔ تمہارے استحقاق سے رتّی بھر بھی زیادہ سزا تمہیں نہیں دی جا رہی ہے۔ میری عدالت بےلاگ انصاف کی عدالت ہے۔ یہاں کوئی شخص کوئی ایسی سزا نہیں پاسکتا جس کا وہ فی الحقیقت مستحق نہ ہو اور جس کے لیے اس کا استحقاق بالکل یقینی شہادتوں سے ثابت نہ کردیا گیا ہو۔