Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 34

  1. اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ﴿34﴾

    1. ادْخُلُوْهَااس میں داخل ہوجاؤ
    2. بِسَلٰمٍ ۭسلامتی کے ساتھ
    3. ذٰلِكَیہ
    4. يَوْمُ الْخُلُوْدِہمیشہ رہنے کا دن
Translation · Tafheem-ul-Quran
داخل ہو جاؤ جنت میں  سلامتی کے ساتھ۔“44 وہ دن حیاتِ ابدی کا دن ہو گا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 44 اصل الفاظ ہیں اُدْخُلُوْھَا بِسَلامٍ۔ سلام کو اگر سلامتی کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کے رنج اور غم اور فکر اور آفات سے محفوظ ہو کر اس جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اور اگر اسے سلام ہی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ آؤ اس جنت میں اللہ اور اس کے ملائکہ کی طرف سے تم کو سلام ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات بتادی ہیں جن کی بنا پر کوئی شخص جنت کا مستحق ہوتا ہے، اور وہ ہیں (1) تقویٰ ، (2) رجوع الی اللہ، (3) اللہ سے اپنے تعلق کی نگہداشت۔ (4) اللہ کو دیکھے بغیر اور اس کی رحیمی پر یقین رکھنے کے باوجود اس سے ڈرنا، اور (5) قلب منیب لیے ہوئے اللہ کے ہاں پہنچنا، یعنی مرتے دم تک انابت کی روش پر قائم رہنا۔