Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 51. Adh-Dhaariyat · Ayah 44

Tafseer
  1. فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ﴿44﴾

    1. فَعَتَوْاتو انہوں نے سرکشی کی
    2. عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْاپنے رب کے حکم سے
    3. فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُتو پکڑ لیا ان کو ایک کڑک نے
    4. وَهُمْ يَنْظُرُوْنَاور وہ دیکھ رہے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کےحکم سے سرتابی کی۔ آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتےایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب 41 نے ان کو آلیا۔
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الذّٰرِیٰت 41 قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس عذاب کے لیے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کہیں اسے رَجْفہ (دہلا دینے والی اور ہلا مارنے والی آفت) کہا گیا ہے۔ کہیں اس کو صیحہ (دھماکے اور کڑکے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کہیں اس کے لیے طاغیہ (انتہائی شدید آفت) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہاں اسی کو صاعقہ کہا گیا ہے جس کے معنی بجلی کی طرح اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کے بھی ہیں اور سخت کڑک کے بھی۔ غالباً یہ عذاب ایک ایسے زلزلے کی شکل میں آیا تھا جس کے ساتھ خوفناک آواز بھی تھی۔