تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 52. At-Tur · Ayah 42
اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ﴿42﴾
- اَمْ يُرِيْدُوْنَیا وہ چاہتے ہیں
- كَيْدًا ۭایک چال
- فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْاتو وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا
- هُمُ الْمَكِيْدُوْنَوہ مکر کیے گئے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ 33 (اگر یہ بات ہے) تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال الٹی ہی پڑے گی۔ 34
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الطُّوْر 33
اشارہ ہے ان تدبیروں کی طرف جو کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کو زک دینے اور آپ کو ہلاک کرنے کے لیے آپس میں بیٹھ بیٹھ کر سوچا کرتے تھے۔
سورة الطُّوْر 34
یہ قرآن کی صریح پیشن گوئیوں میں سے ایک ہے۔ مکی دور کے ابتدائی زمانے میں، جب مٹھی بھر بےسرو سامان مسلمانوں کے سوا بظاہر کوئی طاقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ تھی، اور پوری قوم آپ کے خلاف برسر پیکار تھی، اسلام اور کفر کا مقابلہ ہر دیکھنے والے کو انتہائی نامساوی مقابلہ نظر آ رہا تھا۔ کوئی شخص بھی اس وقت یہ اندازہ نہ کرسکتا تھا کہ چند سال کے بعد یہاں کفر کی بساط بالکل الٹ جانے والی ہے۔ بلکہ ظاہر میں نگاہ تو یہ دیکھ رہی تھی کہ قریش اور سارے عرب کی مخالفت آخر کار اس دعوت کا خاتمہ کر کے چھوڑے گی۔ مگر اس حالت میں پوری تحدی کے ساتھ کفار سے یہ صاف صاف کہہ دیا گیا کہ اس دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے جو تدبیریں بھی تم کرنا چاہو کر کے سیکھ لو۔ وہ سب الٹی تمہارے ہی خلاف پڑیں گی اور تم اسے شکست دینے میں ہرگز کامیاب نہ ہو سکو گے۔